اقامتی اسکولس اور عثمانیہ یونیورسٹی میں ناقص کھانا کھلانے پر طلبہ کا احتجاج افسوسناک
حیدرآباد ۔ 12 ۔ فروری ( سیاست نیوز ) بی آر ایس رکن اسمبلی و سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے اقامتی تعلیمی اداروں و عثمانیہ یونیورسٹی میں ناقص اور مبینہ طور پر ملاوٹ شدہ کھانے کے معاملے پر شدید براہمی کا اظہار کیا ۔ ہریش راؤ نے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اُٹھایا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی صرف ربن کاٹنے کے علاوہ اور کیا کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گروکل اور عثمانیہ یونیورسٹی میں طلبہ ناقص کھانے کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں ۔ لیکن اس معاملے میں حکومت سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ نارائن کھیڑ منڈل کے ایس ٹی آشرم اسکول کے طلبہ کو ملاوٹ شدہ کھانا دیا گیا ۔ جب کہ عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ بھی کھانے کے معیار پر رات بھر احتجاج کرتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت تعلیم کا قلمدان چیف منسٹر کے پاس ہے ۔ باوجود اس کے حالات پر خاموشی تشویشناک ہے ۔ پچھلے ڈھائی سال میں عثمانیہ یونیورسٹی پہونچکر کوئی ترقیاتی کاموں کو انجام نہیں دیا ۔ صرف ربن کاٹنے تک ریونت ریڈی محدود رہے ۔ ریاست کے کئی مقامات پر آئے دن ایسے کئی واقعات پیش آرہے ہیں جو حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ ہریش راؤ نے طنزیہ ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے متعدد دہلی دوروں کا فائدہ ریاست کو حالیہ مرکزی بجٹ میں نظر نہیں آیا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرکاری ہاسٹلس ، اقامتی تعلیمی اداروں میں طلبہ کو معیاری کھانا فراہم نہیں کیا جارہا ہے ۔ دوسری جانب ینگ انڈیا اسکولس کے نام پر بڑے دعوے کئے جارہے ہیں ۔ جو زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ 2