ربیع الاول کسی خاص طبقہ کا نہیں پوری انسانیت کا مہینہ

   

تعلیم کے فروغ اور نشہ کی روک تھام کا عہد اس ماہ ضروری
شاہی مسجد باغ عام میں ڈاکٹر مولانا احسن بن محمد الحمومی کا خطاب

حیدرآباد، 3، ستمبر (پریس نوٹ) شاہی مسجد باغ عام میں مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی نے خطاب کے دوران کہا کہ حال ہی میں مسلم اکثریتی علاقوں میںاس بات کا سروے کیا گیا کہ مسلمانوں کا معیار زندگی کیا ہے؟ سروے میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ پرانے شہر حیدرآباد کے ساٹھ فیصد مسلمان شراب پی رہے ہیں۔ وہ اپنے بچوں اور خواتین پر ظلم کرتے ہیں۔ جب کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر وہ چیز جو نشہ پیدا کرتی ہے وہ حرام ہے۔ شراب پینے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ شراب چاہے فائیو اسٹار ہوٹل میں پی جائے یا سڑک پر وہ شرابی ہے۔ پیسے والے شرابی کی عزت نہ کی جائے۔ایک دور وہ تھا کہ جب کسی مسلمان کا شراب کی دوکان سے گزرنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا، آج دھڑلے سے مسلم آبادیوں میں شراب کی دوکانیں چل رہی ہیں۔ مولانا احسن نے کہا کہ ماہ ربیع الاول کی آمد آمد ہے۔ ہم رسول اکرمؐ کی ولادت باسعادت کی خوشیوں کا تو اہتمام کرتے ہیں، لیکن ہم جس گلی محلہ میں رہتے ہیں، وہاں کی کمزوریوں کو دیکھ کر اس کو دور کرنے کی بھی کوشش کریں۔ کئی ربیع الاول گزر جاتے ہیں لیکن ہم نے شعوری طور پر اس کا صحیح استعمال نہیں کیا ۔اس ربیع الاول کو حضور اکرمؐ کی تعلیمات کو آگے بڑھانے کا مہینہ بنائیے۔ جو لوگ خوب جوش و خروش سے میلاد النبیؐ کا اہتمام کرتے ہیں، ان سے بھی گزارش ہے کہ میلاد النبیؐ کے نام پر جو پیسہ لائٹنگ اور جھنڈیوں پر خرچ کرتے ہیں، اسی پیسے کو بہتر کاموں میں خرچ کریں۔ اس ماہ میں صفائی مہم بھی چلائی جاسکتی ہے کہ اسلام میں صفائی پر خاص زور دیا گیا ہے۔ اس ماہ مسلم محلوں میں نوجوان صفائی کا اہتمام کریں۔ شراب پینے والوں کی کونسلنگ کی جائے۔ شہر میں قتل کی واردات بڑھتی جارہی ہے، اس کی بنیادی وجہ شراب ہے۔ اس ربیع الاول میں شراب کی لعنت کو ختم کرنے کی کوشش کریں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے والا کام ہے۔ شاہی مسجد کے خطیب مولانا احسن نے کہا کہ اس ماہ یہ بھی کوشش کریں کہ ہمارا کوئی بچہ ناخواندہ نہ ہو، وہ تعلیم سے محروم نہ ہو۔ اس کے والدین معاشی طور پر کمزور ہیں اور ایسے طلبہ کی سرپرستی کی جائے اور ان کی تعلیمی کفالت کی جائے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی طلبہ نے تعلیم کو ترک کردیا ہے، ان طلبہ کو دوبارہ تعلیم کی جانب راغب کیا جائے۔ شجر کاری مہم بھی اس ماہ میں کارکرد ثابت ہوگی۔ وہیں خون کا عطیہ دے کر انسانیت کو بچایا جاسکتا ہے۔