رشوت کے الزام پر برہم خاتون سرویئر نے ایک شخص کی چپل سے پٹائی کی

,

   

حیدرآباد۔/29 جنوری، ( سیاست نیوز) سکندرآباد کنٹونمنٹ بورڈ کے تحت علاقہ میں ایک خاتون ملازم نے 43 سالہ شخص کی سرِ عام چپل سے پٹائی کردی جب اس شخص نے الزام عائد کیا کہ ایک خاتون سرویئر نے گھرکی تعمیر کیلئے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا اور اس مقصد کیلئے رشوت طلب کی تھی۔ اس واقعہ کا ویڈیو منظر عام پر آگیا جس میں بتایا گیا کہ 27 جنوری کو 36 سالہ خاتون سرویئر اس شخص کو چپل سے پٹائی کررہی ہے اور مقامی ٹیلی ویژن چینلوں پر یہ منظر خوب دکھایا گیا۔ ماریڈ پلی پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر ایم مٹیا نے کہا کہ یہ شخص جو خود بھی ریاستی سرکاری ملازم ہے اجازت کے بغیر اپنا گھر تعمیر کررہا تھا۔ اس نے مئی 2019 میں سکندرآباد کنٹونمنٹ بورڈ میں درخواست داخل کی تھی جو واپس کردی گئی کیونکہ اس کے ساتھ درکار دستاویز منسلک نہیں تھے۔ بعد ازاں وہ دوسری مرتبہ دفتر سے رجوع نہیں ہوا تھا۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے عہدیدار گزشتہ ہفتہ اس علاقہ کا معائنہ کررہے تھے کہ اس دوران وہاں غیر قانونی طور پر مکان کی تعمیر کا پتہ چلا۔ خاتون سرویئر نے کنٹونمنٹ بورڈ کے چند دیگر اسٹاف ارکان کے ساتھ پیر کو نوٹس دینے کیلئے وہاں پہنچی تھی اور اس شخص سے کام روکنے کیلئے کہا کیونکہ ہائی کورٹ کی طرف سے جوں کی توں حالت برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا تھا تاہم اس شخص نے الزام عائد کیا کہ خاتون سرویئر نے اس سے رشوت طلب کی تھی اور تعمیر کی اجازت دینے سے انکار کی تھی اور وہ کام میں رکاوٹیں پیدا کررہی تھی۔ اس شخص کے الزامات پر برہم خاتون سرویئر نے جو اس مقام سے جاہی رہی تھی کہ اچانک واپس پلٹ آئی اور پیر سے چپل اُتار کر اس شخص کی بری طرح پٹائی شروع کردی۔ انسپکٹر نے کہا کہ بعد ازاں خاتون سرویئر اور اس کے اسٹاف نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر اس شخص کے خلاف شکایت درج کرائی اور الزام عائد کیا کہ یہ شخص سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رخنہ اندازی کررہا تھا اور عہدیداروں سے گالی گلوچ اور فحش کلامی کی۔ اس شخص نے بھی جوابی شکایت درج کروائی تاہم مسئلہ کو مقامی کورٹ سے رجوع کردیا گیا۔