برلن :جرمنی کی وزیر خارجہ ‘اینا لینا بیئر باک’ اس ہفتے کے وسط میں اسرائیلی دورے پر جائیں گی۔ یہ بات جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہی ہے۔ ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ کا دورہ غزہ میں جنگی بندی کے لیے ہے جبکہ اسرائیل رفح میں جنگ پھیلانے کے منصوبہ بنا رہا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو اس بارے میں کہہ چکے ہیں کہ کہ ان کی حکومت دس لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ گزین عوام کے رفح سے انخلاء کے لیے منصوبہ تیار کر رہی ہے۔ یاد رہے رفح شہر مصری سرحد سے متصل ہے۔سات اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران پہلے اسرائیل اور اس کی فوج نے ان فلسطینیوں کو شمالی وسطی غزہ سے بے گھر کرکے رفح کی طرف دھکیلا تھا۔ اب اسرائیل نے انہیں دوباہ نقل مکانی پر مجبور کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔جرمن وزیر خارجہ ‘اینا لینا بیئر باک’ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ ایکس’ پر اس بارے میں لکھا ہے’ رفح میں نقل مکانی کر کے جنگ اور تباہی سے بچنے کے لیے آنے والے 13 لاکھ فلسطینیوں کی تکالیف یقین اور تصور سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ اب اسرائیلی فوج کی طرف سے رفح میں ایک جارحیت انسانی تباہی کا سبب بنے گی۔ ایکس پر انہوں نے اس بارے میں مزید لکھا کہ اسرائیل کو حماس سے اپنا دفاع ضرور کرنا چاہیے مگر اسے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس دوران عام لوگوں کی مشکلات میں اضافے کے بجائے کمی ہو‘لہذا جنگ میں وقفہ کیا جانا ضروری ہے۔ جنگ میں وقفہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے دورے میں اس پردوبارہ بات کریںگی۔
