وزیر اقلیتی بہبود کے پاس جائزہ اجلاس کیلئے وقت نہیں، برقی اور صفائی کے ناقص انتظامات: محمد علی شبیر
حیدرآباد۔ سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے رمضان المبارک کے دوران حکومت کی جانب سے موثر انتظامات میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے آغاز کو ایک ہفتہ مکمل ہونے کو ہے لیکن آج تک حکومت کی جانب سے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں محکمہ جات کو ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو رمضان المبارک کے انتظامات سے زیادہ انتخابات کی فکر ہے۔ حالیہ عرصہ تک شہر کے تمام وزراء ناگرجنا ساگر کی انتخابی مہم میں مصروف تھے اور اب یہ وزراء کھمم اور ورنگل کے بلدی انتخابات کی مہم میں شامل ہوجائیں گے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ٹی آر ایس حکومت جو مسلمانوں کی بھلائی اور تمام تہواروں کو سرکاری طور پر منانے کا دعویٰ کرتی ہے اس نے ہر سال کی روایت سے انحراف کرتے ہوئے کوئی جائزہ اجلاس منعقد نہیں کیا۔ کانگریس دور حکومت میں رمضان سے قبل چیف منسٹر کی سطح پر رمضان کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس منعقد کیا جاتا رہا جس میں تمام متعلقہ محکمہ جات خاص طور پر برقی، آبرسانی، جی ایچ ایم سی اور ہیلت کو ہدایات جاری کی جاتی رہیں۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے چیف منسٹر نے رمضان انتظامات کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں کیا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور کو اقلیتوں کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور ان کے پاس رمضان کے جائزہ اجلاس کیلئے وقت نہیں۔ وزیر اقلیتی ببہود دیگر طبقات کے پروگراموں میں روزانہ شرکت کررہے ہیں لیکن انہوں نے رمضان کے انتظامات پر عہدیداروں کو طلب نہیں کیا۔ حکومت کی لاپرواہی کے نتیجہ میں نہ صرف گریٹر حیدرآباد بلکہ اضلاع میں مسلمانوں کو مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ سحر، افطار اور تراویح کے موقع پر برقی کی سربراہی میں بار بار خلل اندازی کی شکایات مل رہی ہیں۔ وزیر برقی کو رمضان کے دورن بلا وقفہ برقی سربراہی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی دنوں سے شہر بالخصوص پرانے شہر میں جگہ جگہ کچرے کے انبار دیکھے جارہے ہیں اور بلدیہ کی جانب سے نکاسی کا کوئی نظم نہیں ہے۔ مساجد کے اطراف کچرے اور گندگی کے سبب نمازیوں کو دشواری ہورہی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ صحت و صفائی کے انتظامات میں ٹی آر ایس حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر نے بلدیہ کو صفائی کے انتظامات کی ہدایت دی لیکن عہدیداروں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔