رنجیت ریڈی کا انجام بھی کونڈہ ویشویشور ریڈی جیسا ہوگا : کے ٹی آر

   

راہول گاندھی مودی کو چور قرار دے رہے ہیں جب کہ ریونت ریڈی بڑے بھائی کہہ رہے ہیں
حیدرآباد ۔ 27 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے 13 اپریل کو چیوڑلہ میں انتخابی جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اپنی جائیدادوں کا تحفظ کرنے اور اقتدار میں رہنے کے لیے رنجیت ریڈی نے بی آر ایس سے مستعفی ہو کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی نے ہی رنجیت ریڈی کو سیاست میں متعارف کرایا ہے ۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی نے حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ سے ٹکٹ دیا اور ان کی کامیابی کے لیے پارٹی کے ہر کارکن نے دن رات کام کیا ۔ پارٹی میں رنجیت ریڈی کو کافی اہمیت دی گئی ۔ حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ میں انہیں مکمل آزادی دی گئی باوجود اس کے رنجیت ریڈی نے بی آر ایس پارٹی سے دھوکہ دہی کی ہے ۔ رنجیت ریڈی کویتا کو اپنی بہن کہا کرتے تھے جس دن کویتا کو گرفتار کیا گیا وہ ہنستے مسکراتے ہوئے کانگریس پارٹی میں شامل ہوگئے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ماضی میں اس وقت کے رکن پارلیمنٹ کونڈہ ویشویشور ریڈی نے بی آر ایس پارٹی سے دغا بازی کرتے ہوئے دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ ان کا حشر کیا ہوا ہے عوام جانتے ہیں ۔ پارٹی سے بڑی کوئی شخصیت نہیں ہوتی ویشویشور ریڈی کا جو حال ہوا تھا وہی حال رنجیت ریڈی کا بھی ہوگا ۔ پھر سے تاریخ دہرائی جائے گی ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی بی آر ایس پارٹی ختم ہوجانے کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔ سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔ کون کس کے لیے کام کررہے ہیں ۔ کانگریس کے قائد راہول گاندھی وزیراعظم کے خلاف چوکیدار چور ہونے کا نعرہ دے رہے ہیں جب کہ چیف منسٹر تلنگانہ مودی کو بڑے بھائی قرار دے رہے ہیں ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد چیف منسٹر ریونت ریڈی بی جے پی میں شامل ہوجائیں گے ۔۔ 2