رنگا ریڈی میں مسلم خاندان کی اجتماعی خودکشی

   

سنتوش نگر کے قدوس پاشاہ نے معاشی پریشانیوں سے تنگ آکر یہ اقدام کیا

حیدرآباد۔ 31 مئی (سیاست نیوز) شہر کے نواحی علاقہ آدی بٹلہ میں ایک خاندان کی اجتماعی خودکشی کا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق پہلے زہریلی دوا کا استعمال کرنے کے بعد میاں بیوی نے بچوں کے ساتھ تالاب میں چھلانگ لگادی۔ پولیس نے کرمل گوڑہ تالاب سے چاروں نعشوں کو برآمد کرلیا ہے جن کی شناخت 37 سالہ محمد قدوس، 27 سالہ فاطمہ بیگم، 6 سالہ فردوس اور 9 سالہ میر کی حیثیت سے کرلی گئی۔ قدوس پرانے شہر کے علاقہ سنتوش نگر کے ساکن تھے۔ کل رات قدوس سسرال کی روانگی کی تیاری میں تھا اور اس کی دو لڑکیاں ننیال جانے کی خوشی میں تھیں۔ قدوس مالی طور پر پریشان تھا۔ پولیس کے مطابق دونوں میاں بیوی میں 10 ہزا روپے کے لئے بحث و تکرار بھی ہوئی تھی اور قدوس کو رقم کی سخت ضرورت تھی۔ قدوس کل رات تقریباً 10 بجے بیوی اور لڑکیوں کے ہمراہ اپنی موٹر سائیکل پر سسرال شاہین نگر روانہ ہونے کے لئے نکلا اور سیدھا کرمل گوڑہ تالاب پہنچے۔ رات کی تاریکی میں کمسن لڑکیوں کو لے کر تالاب کا رخ کرنے والے میاں بیوی نے پہلے ان لڑکیوں کے ساتھ کچھ کھالیا جو سمجھا جاتا ہے کہ نامعلوم کیڑے مار دوا تھی جس کے بعد اجتماعی طور پر تالاب میں چھلانگ لگادی۔ تالاب کے کنارے قدوس کی موٹر سائیکل بھی برآمد کرلی گئی۔ اس خاندان کی اجتماعی خودکشی کی واردات کے منظر عام پر آنے کے بعد شہر بھر میں سنسنی پھیل گئی اور سوشل میڈیا پر قدوس کے خاندان کے چرچے چھائے رہے۔ اس مسلم خاندان کی معاشی مجبوری کے سبب کئے گئے انتہائی اقدام نے ہر شہری کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک ہی خاندان کی 4 نعشوں کو دیکھ کر مقامی عوام بھی جذباتی ہوگئے۔ آدی بٹلہ پولیس نے اس سلسلہ میں مقدمہ درج کرلیا ہے اور ہر زاویہ سے کیس کی تحقیقات جاری ہے۔ قدوس کے اس انتہائی اقدام کی وجوہات کا پتہ چلانے میں پولیس مصروف تحقیقات ہے۔ ع