روایتی ادویات کا مرکز حیدرآباد سے گجرات منتقل

   

حکومت تلنگانہ کی پہلوتہی کا شاخسانہ ، مرکزی کابینہ میں فیصلہ
حیدرآباد۔11مارچ(سیاست نیوز) عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ہندستان میں قائم کیا جانے والا عالمی مرکز برائے روایتی ادویات اب حیدرآباد کے بجائے گجرات کے جام نگر علاقہ میں قائم کیا جائے گا۔وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت منعقدہ مرکزی کابینہ کے اجلاس میں عالمی مرکز برائے روایتی ادویات کو گجرات منتقل کرنے کے فیصلہ کو منظوری دے دی گئی ہے۔ گذشتہ ماہ مرکزی وزیر سیاحت مسٹر جی کشن ریڈی نے چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے قائم کئے جانے والے عالمی مرکز برائے روایتی ادویات کے لئے اراضیات کی فراہمی و دیگر امور کی تکمیل کے سلسلہ میں عاجلانہ اقدامات کی خواہش کی تھی لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے اس مکتوب پر کسی قسم کی کاروائی نہ کئے جانے کے تین ہفتوں بعد مرکزی حکومت نے اس مرکز کو گجرات منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کی کوتاہی کے سبب ایسا کیا گیا ہے۔ مسٹر جی کشن ریڈی کی جانب سے چیف منسٹر تلنگانہ کو روانہ کردہ مکتوب میں کہا گیا تھا کہ تلنگانہ میں جہاں کئی ایک تحقیقی مراکز موجود ہیں اور تلنگانہ میں یونانی ‘ آیوروید‘ کے علاوہ دیگر طریقہ علاج کو کافی اہمیت دی جاتی ہے اسی لئے تلنگانہ میں اس مرکز کے قیام کے سلسلہ میں اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں ریاست میں موجود قومی تحقیقی اداروں سی سی ایم بی‘ ڈی آر ڈی او کے علاوہ دیگر کا تذکرہ بھی کیا تھا۔ بی جے پی قائدین کا کہنا ہے کہ مرکزی وزارت کی جانب سے روانہ کئے جانے والے مکتوب کے باوجود ریاستی حکومت نے تین ہفتوں تک اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیںکیا جس کی وجہ سے عالمی ادارۂ صحت کی نگرانی میں قائم کئے جانے والے عالمی مرکز کو گجرات منتقل کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے اس کے باوجود ریاستی حکومت اور تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین کی جانب سے مسٹر جی کشن ریڈی پر ربر اسٹامپ مرکزی وزیر کا الزام عائد کیا جا رہاہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہ مرکز میں ریاست کے مفادات کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے مرکزی حکومت کی جانب سے روانہ کئے جانے والے منصوبوں کو نظر انداز کیا جا رہاہے۔م