ماسکو ۔ 3 جنوری (ایجنسیز) ماہرین کا کہنا ہے کہ روس نے یورپ پر دباؤ بڑھانے کے لیے بیلاروس میں نیوکلیر صلاحیت کے حامل میزائل تعنیات کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ سرد جنگ کے بعد ماسکو حکومت پہلی مرتبہ اپنی سرزمین سے باہر نیوکلیر ہتھیار تعینات کر رہی ہے۔ امریکی محققین نے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے اندازہ لگایا ہے کہ غالبآ روس مشرقی بیلاروس کی ایک سابقہ ایئر بیس پر نیوکلیر صلاحیت رکھنے والے ہائپر سونک بیلسٹک میزائل تعینات کر رہا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں روس یورپ بھر کو اپنے میزائلوں کی زد میں لانے کی صلاحیت مزید بہتر بنا سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس معاملہ سے باخبر ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ محققین کی یہ نشان دہی امریکی انٹیلیجنس کے نتائج سے عمومی طور پر مطابقت رکھتی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے پہلے ہی بتایا تھا کہ وہ درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے اوریشنک میزائل بیلاروس میں تعنیات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن یہ کہاں نصب کیے جائیں گے، اس بارے میں درست مقام پہلے رپورٹ نہیں کیا گیا تھا۔ اوریشنک میزائل کی رینج تقریبا 5,500 کلومیٹر ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بیلاروس میں اوریشنک میزائلوں کی تعیناتی دراصل روس کی ایک ایسی کوشش ہے، جس کے تحت وہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اس کی طرف سے یوکرین کو ایسے ہتھیار فراہم نہ کیے جائیں، جو روس کے اندر تک مار کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں۔
