روس کی طرح اسرائیل پر بھی کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی لگانے کا مطالبہ

   

میڈرڈ، 12 ستمبر (یو این آئی) اسپین کی وزیرِ کھیل پلر ایلگریا نے کہا ہے کہ اسرائیلی ٹیموں پر بھی کھیلوں کے مقابلوں میں اسی طرح پابندی لگائی جانی چاہیے ، جیسے 2022 میں روسی ٹیموں پر یوکرین پر حملے کے بعد وسیع پیمانے پر پابندی عائد کی گئی تھی، اور اس سلسلے میں ’دوہرا معیار‘اپنایا جا رہا ہے ۔ویولٹا آ ایسپانیا سائیکلنگ گرینڈ ٹور میں ‘اسرائیل۔پریمیئر ٹیکامی ٹیم کی موجودگی نے اسپین میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا ہے ، اسپین کی حکومت نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کو نسل کشی قرار دیا ہے ۔ اسرائیل۔پریمیئر ٹیک کوئی سرکاری ٹیم نہیں بلکہ یہ اسرائیلی نژاد کینیڈین ارب پتی رئیل اسٹیٹ ڈیولپر سلوان ایڈمز کی نجی ملکیت ہے ، تاہم اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسے سراہا کہ ٹیم نے شدید احتجاج کے باوجود ویولٹا چھوڑنے سے انکار کیا۔ وزیر کھیل پلر ایلگریا نے ہسپانوی ریڈیو اسٹیشن ‘کادیـنا ایس ای آرسے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھانا اور سمجھنا مشکل ہے کہ ایک دوہرا معیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب اتنا بڑا قتلِ عام، نسل کشی اور روز بروز ایک ہولناک صورتحال سامنے ہے ، تو میں متفق ہوں کہ بین الاقوامی فیڈریشنز اور کمیٹیاں بھی وہی فیصلہ کریں جو 2022 میں کیا گیا تھا۔’ اسپین کی وزیر کھیل کا کہنا تھا کہ ‘روس کی کوئی ٹیم یا کلب بین الاقوامی مقابلوں میں شامل نہیں ہوا، اور جب انفرادی کھلاڑی شامل ہوئے تو وہ ایک غیر جانبدار جھنڈے کے تحت اور بغیر قومی ترانے کے شریک ہوئے ۔