روسی فوج یوکرائنی سرحد پرجمع ، ناٹو میں سرگرم مشاورت

   

برسلز : روس نے پولینڈ کے ساتھ جاری مہاجرین سے متعلق تنازعہ پر کے تناظر میں بیلاروس کے ساتھ فوجی مشقوں کا اعلان کردیا۔ اس سے قبل یوکرائنی باغیوں کے زیر قبضہ متنازعہ علاقے میں روسی فوج کی بڑے پیمانے پر ہلچل نوٹ کی گئی تھی۔ دوسری جانب شمالی اوقیانوس کے ممالک کے عسکری اتحادنیٹو کے سیکرٹری جنرل ڑینس اسٹولٹن برگ نے یوکرائن کے حوالے سے روس کو خبردار کیا ہے۔ لیٹویا میں منگل کے روز نیٹو فورسز کا دورہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ روس کے ارادے ٹھیک نہیں نظرا?رہے۔ رواں سال دوسری بار روسی فوج غیر معمولی طور پر جمع ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھاری عسکری ساز و سامان، ڈرون طیارے، حربی نظام اور ہزاروں فوجی دیکھ رہے ہیں جو لڑائی کے لیے تیار ہیں۔تاہم کریملن کو جان لینا چاہیے کہ اسے یوکرائن کے خلاف کوئی بھی مہم جوئی مہنگی پڑے گی۔ خبررساں اداروں کے مطابق لیٹویا کے دارالحکومت ریگا میں ناٹوکے وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران یوکرائنی سرحد پر روسی عسکری کمک روکنے کے معاملے کو زیر بحث لایا گیا۔ مغربی ممالک کئی بار خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ ماسکو یوکرائن کے اندر فوجی مداخلت کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ادھر ماسکو نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ ماسکو نے نیٹو اتحاد کو کشیدگی پھیلانے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ اس سے قبل یوکرائن نے نیٹو اتحادیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ روس کو حملہ سے روکنے کے لیے تیزی سے فوج کو حرکت میں لایا جائے، کیوں کہ ماسکو پلک جھپکنے میں حملہ شروع کر سکتا ہے۔ یوکرائنی وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ روس پر روک لگانے کر اسے حملہ کرنے سے باز رکھنا بہتر ہوگا۔