رُدرور فرقہ وارانہ واقعہ کے بعد پولیس کی سخت چوکسی

   

حالات قابو میں ، امن و امان متاثر کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا : پولیس کمشنر
نظام آباد ۔ 24 فبروری ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع نظام آباد کے بودھن سب ڈیویژن کے رُدرور پولیس اسٹیشن حدود میں دو دن قبل پیش آئے فرقہ وارانہ واقعہ کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ واقعہ کے فوری بعد پولیس نے سخت چوکسی اختیار کرتے ہوئے دونوں جانب سے مقدمات درج کئے اور چند افراد کو تحویل میں لینے کی اطلاع ہے، تاہم پولیس کی جانب سے واقعہ کی تفصیلات ظاہر کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ اس دوران اکثریتی طبقہ کے حملہ میں اسپیشل برانچ کے کانسٹیبل محمد فصیح احمد شدید زخمی ہو گئے جو ایک خانگی دواخانہ میں زیر علاج بتائے جاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں متحدہ ضلع کے مختلف مقامات پر شرپسند عناصر وقفے وقفے سے حالات کو کشیدہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل کاماریڈی ضلع کے بانسواڑہ اور اس کے بعد رُدرور میں معمولی نوعیت کے واقعات کو تنازعہ کا رنگ دیتے ہوئے ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ دونوں مقامات پر مسلم طبقہ کو زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض شدت پسند تنظیموں سے وابستہ عناصر ماحول کو مکدر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حالات کو قابو میں رکھنے اور امن و سکون برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی، جسے عوامی حلقوں نے قابل ستائش اقدام قرار دیا۔واقعہ کے بعد پی سائی چیتنیا، کمشنر پولیس نظام آباد نے واضح کیا کہ کمشنریٹ حدود میں امن و امان کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نظام آباد، آرمور اور بودھن ڈیویژنس میں کوئی بھی شخص بدامنی پھیلانے کی کوشش کرے گا تو پولیس سختی سے نمٹے گی۔ کمشنر پولیس نے رُدرور کی ایک کالونی کا دورہ کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی مسئلہ کی صورت میں متعلقہ پولیس عہدیداروں کو اطلاع دیں یا ہنگامی نمبر 100 پر رابطہ کریں۔ انہوں نے پولیس عہدیداروں کو ہدایت دی کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں کسی کے ساتھ رعایت نہ برتی جائے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر بودھن کے اسسٹنٹ کمشنر پولیس سرینواس، رُدرور سرکل انسپکٹر کرشنا، سب انسپکٹر سائی انا اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔