رکن اسمبلی پرکال کے گھر پر بی جے پی کارکنوں کا حملہ

,

   

سنگباری اور توڑ پھوڑ مچائی ۔ رام مندر کیلئے فنڈز کی وصولی پر سوال کرنے کا نتیجہ
ورنگل ۔ بی جے پی قائدین اور کارکنوں نے آج پرکال رکن اسمبلی سی ایچ دھرما ریڈی کی قیامگاہ پر حملہ کیا جب رکن اسمبلی نے رام مندر کی تعمیر کیلئے فنڈز وصولی مہم کے تعلق سے ان سے سوال کیا تھا ۔ بی جے پی کارکنوں نے رکن اسمبلی کی قیامگاہ پر سنگباری کی ‘ انڈے پھینکے اور کھڑکیوں اور گلدانوں وغیرہ کو توڑ دیا ۔ قبل ازیں ایک پریس کانفرنس میں دھرما ریڈی نے تلنگانہ بی جے پی قائدین پر تنقید کی تھی کہ وہ لارڈ رام کے نام پر مذہبی سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لارڈ رام کے تقدس کو متاثر کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے نام پر فنڈز صول کئے جا رہے ہیں اور اس کا کوئی حساب نہیں ہے ۔ رکن اسمبلی نے کہا تھا کہ چندہ وصول کرنے والوں کو یہ بتانا چاہئے کہ پیسہ کہا جا رہا ہے اور ساری وصولی شفافیت کے ساتھ ہونی چاہئے ۔ انہوں نے سوال کیا تھا کہ بی جے پی حکومت نے کروڑہا روپئے صرف کرکے سردار ولبھ بھائی پٹیل کا مجسمہ کیوں تعمیر کیا تھا جبکہ اسے مندر کیلئے عوام سے فنڈز کی ضرورت پڑ رہی ہے ۔ اس بیان پر ورنگل اربن بی جے پی صدر رام پدما کی قیادت میں بی جے پی کارکنوں نے ایم ایل اے کی قیامگاہ کے گھیراو کی کوشش کی ۔ پولیس نے وہاں پہونچ کر انہیں گھر میں گھسنے سے روکا جس پر احتجاجیوں نے سنگباری کی اور انڈے پھینکے اور توڑ پھوڑ مچائی ۔ پولیس نے بی جے پی کارکنوں کو حراست میں لیتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کیا ۔ بعد ازاں انہیں صوبیداری پولیس اسٹیشن منتقل کیا ۔ رکن اسمبلی اور افراد خاندان کو کوئی گزند نہیں پہونچی ۔