طلبہ میں جوش و خروش ، نصابی کتب اور یونیفارمس نہیں پہنچے، ٹیچرس کی بڑے پیمانے پر قلت
حیدرآباد ۔ 12جون ( سیاست نیوز) ریاست میں گرمائی تعطیلات کے بعد آج سے اسکولس کی دوبارہ کشادگی عمل میں آئی ۔ اسکولس پہنچنے طلبہ میں جوش و خروش دیکھنے کو ملا ، ساتھ ہی کئی اسکولس میں بنیادی مسائل بھی دیکھنے کو ملے ۔ ایک طرف نصابی کتب اور یونیفارمس اسکولس نہیں پہنچے ، دوسری طرف ٹیچرس کی قلت رہی ۔خانگی اسکولس میں داخلوں کا عمل تقریباً مکمل ہوگیا ۔ سرکاری اسکولس میں یہ عمل جاری ہے ۔ جاریہ ماہ 3جون سے بڈی باٹا پروگرام کے ذریعہ داخلوں کا عمل شروع ہوا ہے ۔ سرکاری اسکولس میں گزشتہ سال شروع ہوئے انگلش میڈیم تعلیم جاریہ سال بھی برقرار ہے ۔ گزشہ سال اول تا آٹھویں جماعت تک توسیع دی گئی ۔ آئندہ سال دسویں جماعت تک توسیع دی جائیگی ۔’ ہمارا گاؤں ہمارا اسکول ‘ پروگرام میں منتخب اسکولس میں ابھی ترقیاتی کام مکمل نہیں ہوئے جس کی وجہ سے چند اسکولس میں طلبہ کو مناسب کلاس رومس دستیاب نہیں ہے ۔ یونیفارمس کی سلوائی کا کام مکمل نہ ہونے کی شکایتیں موصول ہورہیہیں ۔ ریاست میں 12,943 ٹیچرس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی میں 15ہزار ٹیچرس کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کرنے کا اعلان کیا تھا اور ساتھ ہی 5571 ہیڈ ماسٹرس کی جائیدادیں منظور کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا تاہم تاحال اس میں کوئی احکام جاری نہیں ہوئے ۔ چند اسکولس میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہے اور ٹیچرس کی تعداد کم ہے ۔ چند اسکولس میں طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے اساتذہ کی تعداد زیادہ ہے ۔ توازن کو برقرار رکھنے ریشنلائزیشن کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا مگر اس کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ۔ دوسری جانب تبادلوں اور ترقیوں کا اساتذہ لمبے عرصے سے انتظار کررہے ہیں ۔ ن