حیدرآباد :۔ ڈاکٹر علی بازہر صدر عثمانین مسلم انٹیلکچول اسوسی ایشن نے صحافتی بیان میں کہا کہ ریاست تلنگانہ کے سرکاری اداروں میں اردو شعبہ جات کئی برسوں سے مخلوعہ ہیں اور جہاں کہیں اردو شعبہ مخلوعہ ہوتا وہاں پر ڈپوٹیشن پر آنے کے لیے دوسرے جامعات کے اساتذہ ایڑی چوٹی کی کوشش کر کے اس مخلوعہ عہدوں کو حاصل کررہے ہیں جب کہ اس ایسے عہدوں پر آوٹ سورسنگ کے ذریعہ تقررات کرنے کی گنجائش رہتی ہے جس سے ایک بے روزگار اردو داں کو روزگار حاصل ہوتا ہے لیکن اس کے برعکس اس عہدے پر دیگر محکمہ جات کے لوگ ڈپوٹیشن پر آرہے ہیں اور ان کا عہدہ مخلوعہ رہتا ہے ، ایسی ہی چند محکمہ جات کا ذکر پیش خدمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کا محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں حال ہی میں یہاں کے اردو ایڈیٹر جناب حبیب قادری کا انتقال ہوا ، اس عہدے پر چند ہی دنوں میں تلنگانہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے خاتون اسسٹنٹ پروفیسر اپنے اثر و رسوخ کی بنا پر ڈپوٹیشن پر اس پوسٹ کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں جب کہ تلنگانہ کے جامعات میں کئی برسوں سے اردو اساتذہ کی بھرتی نہیں ہوپائی ، ایسے ماحول میں اردو اساتذہ دوسرے محکموں میں ڈپوٹیشن میں کام کرنے سے یونیورسٹی کا عہدہ خالی رہ جاتا ہے اور ایسے ماحول میں قابل اور باصلاحیت اردو داں طبقہ روزگار سے محروم ہورہا ہے ۔ اس جانب حکومت بھی توجہ مرکوز نہیں کررہی ہے اور یہی محکمہ کے اردو اسکرپٹ رائٹر 12 سال سے محکمہ آرکائز میں ڈپوٹیشن میں بہ حیثیت اسسٹنٹ ڈائرکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ، اس کی وجہ سے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں 12 سال سے عہدہ خالی ہے ، بارہا نمائندگیوں کے بعد بھی یہ عہدہ پر نہیں کیا جارہا ہے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ محکمہ اسٹیٹ آرکائز میں ڈائرکٹر کے عہدے پر پانچ سال سے موظف ملازمہ فائز ہیں جب کہ اردو طبقہ میں قابل اور پی ایچ ڈی حاصل کرنے کے بعد بھی روزگار سے محروم ہیں ، کیوں کہ جہاں بھی اردو کا عہدہ خالی ہوتا ہے وہاں پر دوسرے محکمہ جات سے ڈپوٹیشن پر آتے ہیں یا موظف ملازمین دوبارہ اس عہدے پر قابض ہوجاتے ہیں ، ایسے پر آشوب ماحول میں اردو کیا کرے ؟ ان کی مدد کون کرے گا ؟ ۔ علی بازہر نے مزید کہا کہ تلنگانہ ریاست کی اردو اکیڈیمی ، ریاست میں اردو کے فروغ اور ترقی کے لیے کام کرتی ہے ، اس کے برعکس اردو اکیڈیمی حال ہی میں ایک ماہنامہ ’ روشن ستارے ‘ بچوں کے لیے شائع کیا ، اب تک اس کے تین شمارے منظر عام پر آچکے ہیں ، اردو طبقہ اکیڈیمی کے اس قدم کو ستائش کی نظر سے دیکھتا ہے جب کہ اصل مسئلہ پر کسی نے نظر نہیں دوڑائی ، جب کہ اس ماہنامہ کے معاون مدیر میاٹری کیولیٹ ہیں ، جب کہ سرکاری اداروں میں تقرری کے لیے تعلیمی قابلیت کا پیمانہ مقرر ہے ، ان تمام چیزوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک میاٹری کیولیٹ امیدوار کو معاون مدیر کی حیثیت سے تقرر کیا جاتا ہے ، یہ بات ناقابل فہم ہے۔ لہذا حکومت اور عوامی منتخب نمائندوں سے پر زور اپیل ہے کہ وہ اس جانب توجہ مرکوز کرتے ہوئے ان امیدواروں کی جگہ قابل اور صلاحیت امیدواروں پر توجہ مرکوز کریں ۔ انہوں نے توجہ دلاتے ہوئے کہا محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں ڈپوٹیشن پر آنے والے عہدیداروں پر روک لگائیں اور ان عہدوں کو نئے اردو داں امیدواروں کو مواقع فراہم کریں اور یہاں کے عہدے دار کو ڈپوٹیشن پر دوسرے محکمہ جات میں منتقل ہوئے ہیں ان کی میعاد کو دوبارہ تجدید نہ کریں جب کہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے اردو اسکرپٹ رائٹر کی میعاد دوسرے محکمہ جات میں میعاد ختم ہوچکی ہے دوبارہ تجدید نہ کریں تاکہ اردو زبان اور اردو کو ختم کرنے والی کوششوں پر روک لگائی جاسکے ۔۔