گریٹر حیدرآباد میں 55 نئے بارس قائم ہوں گے ، حکومت کو 57.90 کروڑ روپئے کا فائدہ ہوگا
حیدرآباد :۔ ریاستی حکومت نے تلنگانہ میں 159 نئے بارس (شراب خانے ) قائم کرنے کی منظوری دی ہے ۔ نئے تشکیل پائے میونسپلٹیز ، کارپوریشنس میں یہ شراب خانے قائم کئے جائیں گے ۔ محکمہ اکسائز کے ڈائرکٹر سرفراز احمد نے اس سلسلہ میں احکامات بھی جاری کردئیے ۔ ان احکامات کے پیش نظر اضلاع کے اکسائز سپرنٹنڈنٹس نے نئے بارس کی درخواستیں قبول کرنے کے لیے نوٹیفیکشن جاری کئے ۔ ریاست کے 7 کارپوریشنس میں 62 نئے میونسپلٹیز قائم کئیے گئے ہیں ۔ ان میں نئے بارس قائم کرنے کا طویل عرصہ سے مطالبہ کیا جارہا تھا ۔ تمام تفصیلات حاصل کرنے کے بعد محکمہ اکسائز نے 2011 کی آبادی کے تناسب سے مزید 159 نئے بارس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ریاست میں پہلے سے 1052 بارس موجود ہیں ۔ نئے بارس کا شمار کرلیں تو ریاست میں جملہ بارس کی تعداد 1211 تک پہونچ جائے گی ۔ جی ایچ ایم سی کے حدود میں پہلے سے 400 سے زائد بارس ہیں ان میں مزید 55 نئے بارس قائم ہوں گے ۔ متحدہ اضلاع کی سطح کا جائزہ لینے پر ورنگل میں 4 کریم نگر میں 6 محبوب نگر میں 10 نظام آباد میں 16 عادل آباد میں 13 میدک میں 11 کھمم میں 4 نلگنڈہ میں 13 رنگاریڈی میں 8 اور جی ایچ ایم سی کے اطراف واکناف 19 بارس کو قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے ۔ نئے بارس کے لیے 8 فروری تک درخواستیں داخل کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کیا گیا ہے ۔ ایک بار کے لیے ایک سے زائد درخواستیں وصول ہونے پر اضلاع سطح پر کلکٹرس اور جی ایچ ایم سی کے حدود میں اکسائز ڈائرکٹر کی موجودگی میں قرعہ اندازی کی جائے گی ۔ درخواست کی فیس ایک لاکھ روپئے ہے جو ناقابل واپسی ہے ۔ اضلاع میں 10 فروری اور جی ایچ ایم سی کے حدود میں 11 فروری کو قرعہ اندازی کی جائے گی ۔ منتخب درخواست گذار کو 17 فروری تک پروزنل لائسنس جاری کیا جائے گا ۔ 90 دن میں درخواست گذار کو بار اکسائیز ٹیکس کا ایک چوتھائی حصہ ادا کرنا ہوگا مہلت ختم ہونے سے قبل ادا نہ کرنے پر درخواست گذار پر 5 لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد ہوگا ۔ نئے بارس کے قیام سے حکومت کو اکسائز ٹیکس کی شکل میں 57.90 کروڑ روپئے کی آمدنی ہورہی ہے ۔۔