سرکاری نظم و نسق عوام کی دہلیز پر ، ایک چھت کے نیچے تمام دفاتر ، رئیل اسٹیٹ کاروبار عروج پر
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ میں اضلاع کی تنظیم جدید کے 5 سال مکمل ہوگئے ہیں ان 5 سال کے دوران جہاں نظم و نسق عوام کی دہلیز پر پہونچا ہے ۔ وہیں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بھی عروج پر پہونچا ہے ۔ سال 2014 میں 10 اضلاع کے ساتھ علحدہ تلنگانہ ریاست قائم ہوئی تھی ۔ چیف منسٹر نے تنظیمی امور پر بڑے پیمانے پر اصلاحات کرتے ہوئے 11 اکٹوبر 2016 کو اضلاع کی تعداد 10 سے بڑھاکر 33 کردیا تھا جو ریاست تلنگانہ کے لیے اہم موڑ ثابت ہوا ہے ۔ پہلے اضلاع 200 تا 250 کیلو میٹر رقبہ پر مشتمل تھے اضلاع کی تنظیم جدید کے بعد ایک ضلع 50 تا 100 کیلو میٹر کے رقبہ پر محیط ہوگیا ۔ پہلے عوام کو ضلع کلکٹریٹ یا ہیڈکوارٹر پہونچنے کے لیے طویل فاصلہ طئے کرنا پڑتا تھا جو اب کافی حد تک گھٹ گیا ہے ۔ منڈلس کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ اضلاع ہیڈکوارٹرس میں طبی سہولتیں ، تعلیمی ادارے قائم ہوگئے ۔ حکومت کے فلاحی اسکیمات سے استفادہ اٹھانے کے لیے تحصیل آفس قریب ہوگئے ہیں ۔ اس کے علاوہ ضلع ہیڈکوارٹرس پر اینٹی گریٹیڈ کلکٹریٹ تعمیر کرتے ہوئے ایک ہی چھت کے نیچے تمام محکمہ جات کے دفاتر کو جگہ فراہم کی گئی ہے ۔ پہلے مختلف محکمہ جات کے دفاتر علحدہ علحدہ مقامات پر ہونے کی وجہ سے عوام کو کافی دشواریاں تھی ۔ اب ایک ہی چھت کے نیچے تمام امور کے کام انجام دئیے جارہے ہیں ۔ اضلاع کی تنظیم جدید کے بعد نئے ڈیویژنس ، نئے منڈلس اور نئے گرام پنچایت قائم ہوگئے ہیں ۔ جس سے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ اراضیات کی مارکٹ قدر میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔۔ ن