ضلع کھمم ، ویلگو ماٹلا میں غریبوں کے مکانات کی مسماری پر غیرمعینہ بھوک ہڑتال ، کویتا کی گرفتاری ، حیدرآباد منتقلی
نظام آباد۔ 10 مارچ ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تلنگانہ جاگروتی صدر اور سابق رکن پارلیمنٹ کے کویتا نے کھمم ضلع کے ویلگوماٹلا علاقہ میں بھودان اراضی پر قائم غریب خاندانوں کے مکانات مسمار کیے جانے کے معاملہ میں قائد اپوزیشن مسٹر راہول گاندھی سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ ویلگوماٹلا میں مکانات کی مسماری محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ سینکڑوں غریب خاندانوں کی زندگیوں کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔کویتا نے اپنے خط میں کہا کہ ویلگوماٹلا میں تقریباً 600 مکانات کو بلڈوزر کے ذریعہ منہدم کر دیا گیا جس کے نتیجہ میں تقریباً دو ہزار افراد ایک ہی رات میں بے گھر ہو گئے۔ متاثرہ خاندانوں کی اکثریت سماج کے انتہائی کمزور طبقات سے تعلق رکھتی ہے اور وہ کئی برسوں سے اس اراضی پر مقیم تھے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت خواتین، بزرگ اور بچے انتہائی نامساعد حالات میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ اسکول جانے والے بچے خوراک اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کویتا نے کانگریس کی قومی قیادت کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی ملک کے دیگر حصوں میں غریبوں کے حقوق اور بلڈوزر سیاست کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہے، لیکن تلنگانہ میں اسی پارٹی کی حکومت کے دوران سینکڑوں غریب خاندانوں کو بے گھر کر دیا گیا۔کویتا نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو اسی مقام پر اراضی الاٹ کرتے ہوئے مکانات تعمیر کر کے دیے جائیں ۔ دریں اثناء تلنگانہ جاگروتی صدر کے کویتا نے ضلع کھمم کے ویلگوماٹلا علاقہ میں غریب خاندانوں کے مکانات مسمار کیے جانے کے خلاف غیر معینہ بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب تک متاثرہ خاندانوں کو انہی مقامات پر نئے مکانات تعمیر کر کے نہیں دیئے جاتے وہ اپنی احتجاجی مہم جاری رکھیں گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے غریبوں کے لیے مختص بھودان اراضی پر قائم تقریباً 750 مکانات کو اچانک بلڈوزروں کے ذریعہ منہدم کر دیا، وہ بھی ایسے وقت میں جب طلبہ کے دسویں اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات قریب تھے جس کے باعث کئی طلبہ کے ہال ٹکٹ رکھنے والے گھروں کو بھی مسمار کر دیا گیا اور اب متاثرہ طلبہ امتحانات دینے کے قابل نہیں رہے۔ کویتا کے مطابق پیر کی رات کھمم میں انہوں نے بھوک ہڑتال شروع کی تھی تاہم منگل کی صبح پولیس نے انہیں زبردستی گرفتار کر کے حیدرآباد منتقل کر دیا۔ جس کے بعد انہوں نے بنجارہ ہلز میں واقع تلنگانہ جاگروتی کے مرکزی دفتر میں اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ویلگوماٹلا میں تقریباً 62 ایکڑ بھودان اراضی ہے جس میں سے 30 ایکڑ پر غریب خاندان برسوں سے رہائش پذیر تھے، مگر زمین کی قیمت بڑھنے کے بعد ان مکانات کو مسمار کر کے اس اراضی کو بااثر افراد کے حوالے کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ متاثرہ خاندانوں کو امبیڈکر بھون میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بنیادی سہولتوں کی کمی ہے اور بچے بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ کھانے پینے کی سہولت بھی مناسب طور پر فراہم نہیں کی جا رہی۔ کویتا نے کہا کہ انہوں نے متاثرین کے حق میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی جے اے سی، جاگروتی اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر کھمم میں احتجاجی دھرنا دیا تھا جس کے دوران تقریباً چار گھنٹوں تک ٹریفک متاثر رہا، لیکن حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے ان کی بات سننے کے بجائے انہیں گرفتار کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ بھودان زمینیں اصل میں غریبوں کیلئے مختص کی گئی تھیں اور ان میں سے بیشتر خاندانوں نے جی او 58 کے تحت اراضی کی باقاعدہ رجسٹریشن کیلئے درخواستیں بھی دے رکھی تھیں، اس کے باوجود بغیر کسی نوٹس کے مکانات مسمار کرنا انتہائی غیر منصفانہ اقدام ہے۔