سیاسی سرگرمیاں اور پرہجوم تقاریب پھیلاؤ کی اصل وجہ ۔ متعلقہ حکام کا تاثر
حیدرآباد۔10 اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ میں کورونا وائرس کی قسم ڈیلٹا اب بھی متحرک ہے اور ڈیلٹا متاثرین کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن 8اضلاع میں کورونا متاثرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہاہے۔ کورونا کی اس قسم سے نمٹنے لازمی ہے کہ جن لوگوں نے اب تک کورونا ٹیکہ نہیں لیا ہے وہ جلد ٹیکہ حاصل کرلیں۔عمومی طور پر کورونا مریضوں میں کمی کے باوجود محکمہ صحت کے عہدیدارتشویش میں مبتلاء ہیں اور کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ میں ڈیلٹا ویریئنٹ متحرک ہونے سے عہدیدار اب بھی مطمئن نہیں ہیں اور شہریوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ جلد اپنا ٹیکہ لیں اور محفوظ ماحول کو یقینی بنانے میں تعاون کریں جو حکومت اور شہریوں دونوں کیلئے فائدہ مند ہوگا۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کی ٹیم جو حالیہ دنوں میں کریم نگر کا دورہ کرکے کورونا مریضوں میں اضافہ کا جائزہ لے رہی ہے کے مطابق سیاسی سرگرمیوں اور پرہجوم تقاریب کے سبب مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور جو متاثرین قرنطینہ کے بغیر عام زندگی گذار رہے ہیں وہ کورونا کو پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے محکمہ صحت کو ہدایت دی ہے کہ کریم نگر کے علاوہ ان اضلاع میں جہاں کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے مریضوں کے قرنطینہ کرنے کے اقدامات کئے جائیں اور کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کاروائی کی جائے۔ محکمہ صحت کے مطابق ریاست میں کورونا کی تیسری لہر کو روکنے شہریوں کو کورونا قواعد اور ضوابط پر مؤثر عمل کی تاکید کی جا رہی ہے ۔ جار ہاہے کہ ماسک کے استعمال کو ترک نہ کریں بلکہ لازمی استعمال کے ذریعہ خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں ۔عہدیداروں کے مطابق تلنگانہ کے بعض اضلاع اور دیہاتوں میں معمول سے زیادہ مریضوں کی نشاندہی کی جانے لگی ہے جو توثیق ہے کہ وائرس اب بھی قابو میں نہیں ہے بلکہ وہ پھیل رہا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد‘ میڑچل ‘ رنگاریڈی‘ کریم نگر‘ کھمم‘ منچریال ‘ سوریہ پیٹ ‘ ورنگل ‘ بھدادری کے علاوہ دیگر مقامات پر معمول سے زیادہ مریض متاثر ہونے لگے ہیں ۔
