٭ کروڑہا روپیوں کی عدم اجرائی ‘محکمہ فینانس کی ٹال مٹولی پالیسی
٭ جی پی ایف ،انشورنس ، ڈی اے اور میڈیکل بلز روک دئے گئے
٭ ملازمین کے وظیفہ و انتقال کے بعد ملنے والی رقم کیلئے طویل انتظار
٭ سی پی ایف ملازمین کے 300 کروڑ سے زائد بقایاجات
حیدرآباد /30 جولائی ( سیاست نیوز ) ریاست میں سرکاری خزانہ خالی ہونے سے آبپاشی پراجکٹس ، سڑکیں اور مکانات تعمیر کرنے والے کنٹراکٹرس کے ہی نہیں بلکہ دن رات عوامی خدمات میںمصروف ملازمین کے بلز کی اجرائی بھی نہیں ہو رہی ہے ۔ حکومت کے پاس فنڈس کی قلت کے باعث ٹریژرری اور پے اینڈ اکاونٹس کے دفاتر میں بلز کے انبار پڑے ہیں ۔ ڈرائنگ اینڈ ڈیسبرمنٹ آفیسرس ( ڈی ڈی اوز ) کی جانب سے سئلیمنٹری بلز روانہ کرنے کے باوجود کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا ہے ۔ 2021-22 ، 2020-21 مالیاتی سال کے ملازمین سے متعلق تقریباً 8 ہزار بلز زیر التواء ہیں ۔ ان کی منظوریوں کیلئے سینکڑوں کروڑ روپئے درکار ہیں۔ اس پر جب بھی بات کی جارہی ہے محکمہ فینانس کے عہدیدار ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کر رہے ہیں ۔ گذشتہ سال اور جاریہ سال کورونا بحران کی وجہ سے ریاست کی آمدنی پر گہرا اثر پڑا ہے ۔ فنڈز کی قلت کے باعث حکومت بلز کی اجرائی میں ناکام ہے ۔ کنٹراکٹرس کو حکومت سے 13 ہزار کروڑ روپئے بقایا جات ہیں ۔ یہی مسئلہ سرکاری ملازمین اور ٹیچرس کا بھی ہے سپلینٹری بلز کی اجرائی روک دی گئی ہے ۔ محکمہ فینانس سے منظوری تک ٹریژری میں کلئیرنس نہیں ہو رہا ہے ۔ بالخصوص جی پی ایف ، ٹی ایس جی ایل آئی ایف ، ٹی ایس ای جی آئی ایس ، میڈیکل ری ایمبرسمنٹ ڈی اے ، لیو ان کیاشمنٹ بلز کے علاوہ وظیفہ پر سبکدوش ہونے کے بعد جو مالی امور ہوتے ہیں وہ بھی زیر التواء ہیں ۔ 6 فیصد کی کٹوتی ہوتی ہے ۔ ملازمت سے سبکدوشی کے وقت پر ملازم کو کم از کم 20 لاکھ اور زیادہ سے زیادہ 40 لاکھ روپئے تک دستیاب ہوتے ہیں لیکن بیشتر ملازمین سرویس کے دوران ہی بچوں کی تعلیم ، اراضیات کی خریدی گھروں کی تعمیرات کیلئے 50 فیصد اڈوانس میں حاصل کرتے ہیں ۔ اس کیلئے پیش کردہ بلز کو بھی منظوری نہیں مل رہی ہے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ گورنمنٹ لائف انشورنس کے تحت ہر ملازم کی تنخواہوں سے حکومت 100 تا 2000روپئے کٹوتی کرتی ہے ۔ ملازم کی موت ہوجانے پر 5 تا 6 لاکھ روپئے کی انشورنس رقم دستیاب ہوتی ہے ۔ ملازمین کے مرنے پر ان کے ارکان خاندان کی جانب سے پیش کردہ بلز بھی کلئیر نہیں ہو رہے ہیں ۔ وظیفہ کے بعد وصول ہونے والے 30 تا 40 ہزار روپئے بھی وقت پر دستیاب نہیں ہو رہے ہیں ۔ تلنگانہ اسٹیٹ ایمپلائیز گروپ انشورنس اسکیم کے تحت تنخواہوں سے ہر ماہ 15 تا 120 روپئے حکومت کی جانب سے کٹوتی ہوتی ہے ۔ جس سے ہر ملازم کو 15 ہزار تا 12,20,000 لاکھ روپئے دستیاب ہوتے ہیں ۔ یہ بلز بھی منظور نہیں ہو رہے ہیں ۔ ایمپلائیز ہیلت اسکیم عمل میں نہیں ہو رہا ہے ۔ علاج کے بعد ہاسپٹلس سے وصول شدہ بلز کی ری ایمبرسمنٹ کیلئے درخواستیں دینے پر اندرون 50 ہزار کے بلز کو ایچ او ڈیز سے منظوری دی جاتی ہے ۔ اس سے زیادہ رقم کی بلز ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن جائزہ لیتے ہیں ۔ منطور ہونے کے بعد بلز جاری نہیں ہو رہے ہیں ۔
