حیدرآباد /13 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ریاست میں تیسری مرتبہ انتخابات منعقد ہو رہے ہیں ۔ تینوں جماعتوں بی آر ایس ، کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سہ رخی مقابلہ ہو رہا ہے اور نتائج بھی 3 ڈسمبر کو جاری ہو رہے ہیں ۔ جس کے باعث اس الیکشن کی اہمیت میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے اور نتائج کو لے کر ہر پارٹی کامیابی کے دعوے کر رہی ہے ۔ عوام میں تجسس پیدا ہوگیا ہے ۔ کیونکہ متحدہ آندھراپردیش میں 1978-2009 میں دو مرتبہ سہ رخی مقابلہ ہوا تھا اور دونوں انتخابات میں کانگریس کامیاب ہوئی تھی ۔ جس کے بعد تلنگانہ میں پہلی مرتبہ سہ رخی مقابلہ ہو رہا ہے ۔ کانگریس کے قائدین اس مرتبہ بھی کانگریس کی واضح اکثریت سے کامیابی کی توقع کر رہے ہیں ۔ ابھی تک جتنے بھی پری پول سروے سامنے آئیے ہیں کسی نے کانگریس کی کامیابی کو یقینی قرار دیا ہے ۔ یا کانگریس کو سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرنے کی پیش قیاسی کی ہے ۔ متحدہ آندھراپردیش میں کانگریس جنتا پارٹی ، کانگریس ، کمیونسٹ جماعتوں کانگریس اور تلگودیشم کے درمیان اصل مقابلہ ہوا ہے ۔ صرف 1978 میں اندرا کانگریس ، ریڈی کانگریس اور جنتا پارٹی کے درمیان سہ رخی مقابلہ ہوا تھا جس میں اندرا کانگریس نے سنسنی خیز کامیابی حاصل کی تھی ۔ اس کے بعد 2009 میں فلم اسٹار سے سیاستدان بن جانے والے چرنجیوی نے پرجا راجیم پارٹی تشکیل دی تھی ۔ جس کی وجہ سے کانگریس تلگودیشم اور پرجا راجیم کے درمیان انتخابات میں سہ رخی مقابلہ ہوا تھا ۔ جس میں بھی کانگریس کو واضح اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ پرجا راجیم پارٹی نے 18 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے ۔ تاہم تلنگانہ میں اس کا اثر برائے نام تھا ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد 2023 میں منعقد ہونے والا تیسرا الیکشن ہے ۔ 2014 اور 2018 میں کانگریس اور ٹی آر ایس کے درمیان ہی اصل مقابلہ ہوا تھا مگر اس مرتبہ بی آر ایس ، کانگریس اور بی جے پی کے درمیان دلچسپ سہ رخی مقابلہ ہونے کی توقع کی جارہی ہے ۔ کرناٹک میں شکست کے بعد بی جے پی کی قومی قیادت جنوبی ہند میں اپنے وجوود کو باقی رکھنے کیلئے ساری توجہ تلنگانہ پر مرکوز کردی ہے ۔ 10 سال سے اقتدار میں رہنے والی بی آر ایس حکومت کیلئے مخالف لہر پائی جاتی ہے ۔ کانگریس پارٹی اس سے فائدہ ہونے اور کانگریس کے جاری کردہ 6 گیارنٹیز کانگریس کی جیت کی ضمانت ہونے کا دعوی کر رہی ہے۔ تاہم بی آر ایس پارٹی بھی اس کی ضمانت ہونے کا دعوی کر رہی ہے ۔ تاہم بی آر ایس پارٹی بھی اس کی فلاحی اسکیمات اور ترقیاتی کام اس کو تیسری مرتبہ کامیاب بنانے میں معاون و مددگار ثابت ہونے کا دعوی کر رہی ہے ۔ تلنگانہ میں کرشمہ ہونے اور بی جے پی کامیاب ہونے کا دعوی کر رہی ہے ۔ یا ان کی تائید کے بغیر کوئی بھی جماعت حکومت تشکیل دینے کے موقف میں نہ رہنے کی امید کرتے ہوئے معلق اسمبلی وجود میں آنے کی پیش قیاسی کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ بی ایس پی وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کمیونسٹ جماعتیں ٹی جے ایس بھی انتخابی میدان میں قسمت آزمانے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ جماعتیں کسی بھی جماعت کو مایوس کرسکتی ہیں۔ سہ رخی مقابلہ میں ایک ایک ووٹ کی اہمیت ہوتی ہے ۔ کبھی کبھی کامیاب ہونے والا ا میدوار شکست سے دوچار ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی کامیاب ہونے والا امیدوار شکست سے دو چار ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی دوسرے نمبر پر رہنے والا امیدوار ووٹوں کی تقسیم سے پہلے نمبر پر آجانے کے بھی امکانات پائے جاتے ہیں۔ بیشتر امیدواروں کی کامیابی اور شکست کے درمیان ووٹوں کا فرق بہت کم ہونے کی بھی توقع کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ باغی اور آزاد امیدوار بھی کئی اہم امیدواروں کا کام بگاڑ سکتے ہیں۔ ریاست میں مجلس بھی ہے جو صرف پرانے شہر تک محدود ہے ۔ سیاسی جماعتوں کی انتخآبی مہم پارٹیوں کے منشور ، ناراض قائدین کو منانا بھی کافی اہمیت رکھتا ہے ۔ عوام کونسی جماعت پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ اس کا 3 ڈسمبر کو پتہ چلے گا ۔ ن