کانگریس رکن پارلیمنٹ ویکٹ ریڈی کا مطالبہ، دولتمند ریاست تنخواہوں کی کٹوتی پر مجبور
حیدرآباد۔یکم اپریل (سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ریاست کی معاشی صورتحال پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ وینکٹ ریڈی نے مکتوب میں کہا کہ ریاست میں کورونا وائرس سے نمٹنے میں حکومت کے تمام اقدامات کی کانگریس پارٹی مکمل تائید کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سنگین صورتحال اور عوام کی بھلائی کے پیش نظر کانگریس پارٹی تنقیدوں سے گریز کررہی ہے لیکن معاشی ابترصورتحال کے نام پر حکومت کے بعض اقدامات کی تائید نہیں کی جاسکتی۔ وینکٹ ریڈی نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور اور پنشنرس کے وظیفے میں کٹوتی کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 10 ہزار کروڑ سے زائد خرچ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اچانک معاشی صورتحال کی کمزوری کا بہانہ بناکر سرکاری ملازمین کی زندگیوں سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ 8 دن کے لاک ڈائون میں ریاست میں کس طرح معاشی بحران پیدا ہوگیا۔ حکومت کو چاہئے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے خرچ کی گئی رقم کی تفصیلات پیش کرے۔ کے سی آر خصوصی طیارے کے ذریعہ سفر کرتے ہوئے تلنگانہ کو دولتمند ریاست قراردیتے رہے ہیں اور عوام کو اس پر بھروسہ تھا۔ دولتمند ریاست کے چیف منسٹر کی جانب سے غریب ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی افسوسناک ہے۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ عوام وائرس کے خطرے سے پریشان ہیں اور مختلف محکمہ جات کے ملازمین اور عہدیدار وائرس سے نمٹنے کے لیے خصوصی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ ان حالات میں تنخواہوں کی کٹوتی ملازمین کے حوصلے پست کرنے کے مترادف ہے۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ جب حکومت خود ملازمین کی تنخواہیں کم کردے تو پھر خانگی شعبہ جات اور غیر منظم شعبہ کے مزدوروں کا کیا حال ہوگا۔ حکومت کے فیصلے کے بہانے وہ بھی تنخواہوں میں کٹوتی کردیں گے۔ پنشن پر زندگی بسر کرنے والے وظیفہ یاب افراد سڑکوں پر آجائیں گے۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ کمیشن کی لالچ میں حکومت نے آبپاشی پراجیکٹوں پر بھاری رقم خرچ کردی ہے۔ انہوں نے تنخواہوں میں کٹوتی کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔