ریاست کے تین میڈیکل کالجس کی 520 نشستیں منسوخ

   

نیشنل میڈیکل کمیشن کا فیصلہ ،این ایم آر ، ٹی آر آر ، مہاویر کے 450 ایم بی بی ایس اور 70 پی جی نشستیں شامل
حیدرآباد۔31۔ مئی (سیاست نیوز) نیشنل میڈیکل کمیشن نے ریاست کے تین خانگی میڈیکل کالجس کے 450 ایم بی بی ایس اور پوسٹ گریجویٹ (پی جی) کی 70 نشستوں کو منسوخ کردیا جس سے ایک ماہ قبل ہی لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہوئے کنوینر ،بی اور این آر آئی کوٹہ میں داخلہ حاصل کرنے اور ایک ماہ تک روزانہ کلاسس میں بھی شرکت کے بعد ان نشستوں کو منسوخ کردینے سے 520 طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے ۔ مرکزی محکمہ صحت کے عہدیداروں نے تلنگانہ کے میڈیکل کالجس کا اچانک دورہ کرتے ہوئے مختلف امور کا جائزہ لیا ۔ انفراسٹرکچراور فیکلٹی ضرورت کے مطابق نہ ہونے ، لیباریٹری میں اشیاء کی کمی ، دوسری وجوہات کے سبب منظورہ 520 نشستوں کو منسوخ کرنے کا نیشنل میڈیکل کمیشن نے اعلان کیا۔ اس سلسلہ میں تلنگانہ کے محکمہ صحت کو بھی مکتوب روانہ کرتے ہوئے فیصلہ سے واقف کرایا گیا۔ ساتھ ہی ایم این آر ، ٹی آر آر اور مہاویر کالجس کے انتظامیہ کو بھی مکتوب روانہ کرتے ہوئے اطلاع دی گئی ۔ ان تین خانگی میڈیکل کالجس نے این ایم سی سے فیصلہ پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ہے ۔ محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ داخلوں کی اجازت دینے کے ایک ماہ بعد نشستوں کو منسوخ کیا گیا ہے ۔ عام طور پر نیشنل میڈیکل کمیشن کی جانب سے میڈیکل کالجس میں داخلوں کے آغاز سے قبل اچانک دورے کرتے ہوئے داخلے دیئے جائیں یا نہیں اس کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ تاہم طبی تعلیمی سال 2021-22 ء کیلئے داخلے حاصل کرنے کی گزشتہ سال نومبر میں مختلف کالجس کو منظوری دی گئی تھی ۔ داخلوں کا عمل مکمل ہونے اور طلبہ کی جانب سے کلاسس میں شرکت کے بعد چند کالجس کی منظوریوں سے دستبرداری اختیار کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جن میڈیکل کالجس کی نشستوں کو منسوخ کیا گیا ہے ، ان میں ایم این آر (سنگا ریڈی ) ٹی آر ایس (پٹن چیرو) مہاویر (وقار آباد) کے میڈیکل کالجس میں فرسٹ ایئر ایم بی بی ایس کی فی کس 150 نشستوں کے لحاظ سے جملہ 450 نشستوں پر داخلے مکمل ہوئے تھے ۔ این ایم آر اور مہاویر کالجس میں 70 پی جی نشستوں پر داخلے ہوئے۔ ایم بی بی ایس نشستوں میں نصف نشستیں کنوینر کوٹہ کے ہیں ، مابقی نشستوں میں 35 فیصد بی زمرہ اور 15 فیصد این آر آئی کوٹہ کی نشستیں ہوتے ہیں ۔ ساتھ ہی انسٹی ٹیوشنل کوٹہ میں نشستیں بھی ہوتے ہیں۔ اس فیصلہ پر تنقیدیں کی جارہی ہیں۔ انفراسٹرکچر کی کمی کالجس انتظامیہ کی غلطی ہے ۔ داخلوں کا عمل مکمل ہونے کے بعد منظوریوں کو منسوخ کردینا این ایم سی کی غلطی ہے ۔ 6 سال قبل بھی ریاست میں دا خلوں کا عمل مکمل ہونے کے بعد نشستیں کو منسوخ کرنے کے بعد طلبہ کو دوسرے میڈیکل کالجس میں داخلہ دیا گیا تھا ۔ فی الحال تین میڈیکل کالجس نے نظرثانی کی اپیل کی ہے، اگر نیشنل میڈیکل کمیشن مثبت ردعمل کا اظہار کرتا ہے تو طلبہ کو راحت ہوگی ، اگر این آیم سی منسوخ کرنے کے فیصلہ پر اٹل رہتا ہے تو طلبہ کو دوسرے خانگی میڈیکل کالجس میں اڈجیسٹ کرنا مشکل ہے۔ن