بجٹ میں فنڈز مختص کرنے کی تیاریاں۔ مختلف محکمہ جات میں تبادلہ خیال کا عمل بھی پورا کرلیا گیا
حیدرآباد۔/17 فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج کے قیام کو یقینی بنانے اقدامات کا آغاز ہوچکا ہے ۔ امکان ہے کہ میڈیکل کالجس کے قیام کے متعلق سفارشات بجٹ میں پیش کی جائیں گی اور بجٹ کی تیاری میں فنڈز مختص کرنے کوششیں بھی شروع کردی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بجٹ تیاری سے قبل سفارش کیلئے محکمہ جاتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور بجٹ میں کالجس کے قیام کو یقینی بنانے اور گنجائش پر بھی بات ہوئی اور کالجس کے قیام سے متعلق تقریباً فیصلہ کرلیا گیا ۔ حکومت کے اس اقدام سے تلنگانہ میڈیکل شعبہ میں ایک اورمثالی سنگ میل کو عبو کرنے والی ریاست بن جائے گی جہاں فارماسٹی ، فارما ہب کے بعد ہر لحاظ سے میڈیکل شعبہ میں مستحکم اقدامات کئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ میں فی الحال عثمانیہ ، گاندھی، کاکتیہ، سدی یپٹ ، محبوب نگر، نلگنڈہ، سوریہ پیٹ، نظام آباد، عادل آباد، ریمس کالجس ہیں۔ عثمانیہ میں 250، گاندھی میں 250 ، کاکتیہ میں 250 ، محبوب نگر میں 125 ، سدی پیٹ میں 125، نلگنڈہ میں 150، سوریہ پیٹ میں 150، نظام آباد میں 120 اور عادل آباد ریمس میں 120 جملہ 1,640 ایم بی بی ایس نشستیں ہیں۔ آئندہ تعلیمی سال سے سنگاریڈی، منچریال ، ونپرتی، جگتیال، محبوب آباد، بھدرادری گتہ گوڑم، ناگر کرنول، راما گنڈم جملہ 8 میڈیکل کالجس قائم ہوں گے اور ان کالجس کے قیام کے بعد فی کس کالج 150 میڈیکل نشستوں کے اضافہ سے مزید 1200 نشستوں کا اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ سال 2023-24 تعلیمی سال میں وقارآباد، سرسلہ، جے شنکر بھوپال پلی، کاماریڈی میں میڈیکل کالجس کے قیام کیلئے حکومت نے ہری جھنڈی دکھادی ہے۔ حالیہ دنوں چیف منسٹر نے جنگاؤں دورہ کے موقع پر اعلان کردیا۔ اس اعلان سے ریاست کے 21 اضلاع میں میڈیکل کالجس کا قیام یقینی ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق مرحلہ وار سطح پر دیگر 12 اضلاع میں نئے کالجس کے قیام کیلئے بجٹ میں سفارشات شامل کی جائیں گی۔ ہر کالج میں 150 نشستوں کے ساتھ آئندہ تین تا چار سال میں ایم بی بی ایس کی 5,390 نشستوں کا اضافہ ہوگا۔ اس سے ریاست کے ہر ضلع میں اسپیشالیٹی اور سوپر اسپیشالیٹی طبی خدمات دستیاب رہیں گی۔ میڈیکل کالجس کی ترقی سے 24 گھنٹے اسپیشالیٹی طبی خدمات حاصل رہیں گی۔ اس کے علاوہ طبی تعلیم میں داخلہ کیلئے آسان ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ سال 2022-23 کے بجٹ میں میڈیکل شعبہ کیلئے مختص کئے جانے والے فنڈز میں 20 تا30 فیصد کا اضافہ ہوگا۔ ع