سرینگر: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے آج شوپیان اور وچی میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی نے جموں وکشمیر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کل جموں میں وزیر داخلہ نے ہمیں طعنہ دیا کہ یہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس والے ریاستی درجہ کا کا وعدہ کیسے کرسکتے ہیں ؟ یہ کیسے لائیں گے ؟میں امت شاہ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ یہ الیکشن بھی آپ نے کوئی اپنی مرضی سے نہیں دیا بلکہ سپریم کورٹ میں لڑ جھگڑ کر ہم نے یہ الیکشن کروائے ۔ عمر نے کہا ‘کل اگر ضرورت پڑے گی، اگر آپ ہمیں اپنی مرضی سے ریاستی درجہ واپس نہیں دیں گے تو ہم دوبارہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور اپنا حق حاصل کریں گے ۔عمر عبداللہ نے کہاکہ ہم اُن طاقتوں کیخلاف لڑ رہے ہیں، جو ہمیں تباہی اور بربادی کی طرف لے گئے اور جنہوں نے جموں وکشمیر کو تہس نہس کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ جہاں ہم دفعہ370 ، ریاستی درجہ اور قیدیوں کی رہائی پر سیاسی باتیں کرتے ہیں وہاں ہمیں یہاں کے عوام کے روزمردہ کی پریشانیوں کا بھی احساس ہے ،جن کا ازالہ موجودہ حکومت کر نہیں پارہی ہے ، ہم ان کا حل نکالنے کی بات بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نوجوانوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ گذشتہ10سال میں کتنے نوجوانوں کو سرکار کی طرف سے روزگا رملا،ہمارے پڑھے لکھے نوجوان آج بے روزگار بیٹھے ہیں ، یہاں گزشتہ 10سال میں اگر کچھ ہوا، تو پکڑ دھکڑ ہوئی، مار دھاڑہوئی، گرفتاریوں ہوئی، پی ایس اے کے کیس لگے ۔ہم نے اپنے منشور میں وعدہ کیا ہے کہ ہماری حکومت آتے ہی پی ایس اے کے قانون کو ختم کریں، تاکہ دوبارہ اس کا غلط استعمال نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے منشو رمیں ایک لاکھ نوکریاں دینے کی بات کی ہے ، مفت تعلیم جو ہمیں شیر کشمیر نے وراثت میں دی تھی، ایک ایک کرکے اس کا سلسلے کو بند کردیا، نیشنل کانفرنس نے اپنے منشور میں وعدہ کیا ہے یونیورسٹی سطح تک مفت تعلیم کو دوبارہ رائج کیا جائے گا۔