ریاستی کابینہ میں پسماندہ طبقات کو نظر انداز کرنے کا الزام

   

۔ 10 فیصد مادیگا کی کوئی نمائندگی نہیں، پی سی سی ترجمان ستیش مادیگا کا بیان
حیدرآباد ۔ 11 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ پر دیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان ستیش مادیگا نے کابینہ کی تشکیل میں صرف اعلیٰ طبقات کو ترجیح دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کابینہ میں مادیگا طبقہ کا ایک بھی وزیر شامل نہیں کیا گیا ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ستیش مادیگا نے کہا کہ تلنگانہ میں محض ایک فیصد موجود طبقہ کے 4 وزراء شامل کئے گئے ۔ 4 فیصد ریڈی طبقہ کو 6 وزراء کے ذریعہ نمائندگی دی گئی۔ مادیگا طبقہ مجموعی آبادی میں 10 فیصد سے زائد ہے لیکن اسے کوئی نمائندگی نہیں دی گئی۔ انہوں نے اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے سی آر سے وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالا اور مادیگا طبقہ کی مجموعی آبادی 17 فیصد ہے لیکن انہیں محض ایک وزیر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ٹی آر ایس میں ڈاکٹر راجیا جیسے مادیگا قائدین رہیں گے ، اس طبقہ سے ناانصافی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس میں موجود مادیگا قائدین کو اپنی حکمت عملی کا اعلان کرنا چاہئے ۔ اگر وہ طبقہ کے لئے جدوجہد نہ کریں تو انہیں طبقہ سے نکال دیا جائے گا ۔ پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں مالا اور مادیگا طبقہ کو یکساں نمائندگی دی گئی ہے۔ انہوں نے نلا ملا کے جنگلاتی علاقوں میں یورانیم کی کھدائی کی مخالفت کی اور کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومت کھدائی کی اجازت کے ذریعہ عوامی زندگی سے کھلواڑ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورانیم سے آبی اور ماحولیاتی آلودگی پیدا ہوگی۔ دنیا بھر میں ترقی یافتہ ممالک نے یورانیم کی کھدائی کو بند کردیا ہے ۔ ستیش مادیگا نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ یورانیم کی کھدائی سے ہونے والے فوائد سے عوام کو واقف کرائیں۔ کھدائی کی صورت میں ناگرجنا ساگر کا پانی آلودہ ہوسکتا ہے جس سے دونوں ریاستوں کے عوام کو نقصان ہوگا۔ حیدرآباد کو سربراہ کئے جانے والا پانی بھی آلودہ ہوجائے گا ۔