ریسیڈنشیل اسکول کی طالبہ کو سانپ کاٹنے پر ہریش راؤ کی تشویش

   

حکومت اس مسئلہ پر فوری توجہ دیں، طلبہ کے زندگیوں کا تحفظ کرنے کیلئے ضروری اقدامات کریں
حیدرآباد ۔3 ۔ فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے ضلع محبوب نگر کے انگرتی ریسیڈنشیل کالج میں زیر تعلیم انٹر کی طالبہ اشمیتا کو سانپ کے کاٹنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک غریب طالبہ زندگی اور موت کے درمیان جنگ لڑ رہی ہے۔ حکومت اس پر فوری توجہ دیں اور طالبہ کو تمام ضروری طبی سہولتیں فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی ہارورڈ یونیورسٹی میں مہنگی تعلیم حاصل کی ہے۔ وہیں ریسیڈنشیل اسکولس کے طلبہ کو بنیادی سہولتوں سے محروم کردیا گیا ہے جس کے بعد سے طلبہ و طالبات کو ریسیڈنشیل اسکولس و کالجس میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ کبھی انہیں چوے کاٹ رہے ہیں، کبھی سانپ کاٹ رہے ہیں۔ کبھی طلبہ سمیت غذا کا شکار ہورہے ہیں۔ اس طرح کے سینکڑوں واقعات پیش آچکے ہیں۔ کئی طلبہ کی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ ہریش راؤ نے سوشیل میڈیا کے پلیٹ ایکس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریسیڈنشیل اور سرکاری ہاسٹلس میں قیام کرتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے والے غریب طلبہ کے مسائل پر حکومت فوری توجہ دیں۔ انہی اسکولوں پر حکومت توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ انٹیگریٹیڈ اسکولس کی کیا حالت ہوگی اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ طالبہ کو سانپ کاٹنے کی ذمہ داری ریاستی کومت پر عائد ہوتی ہے۔ چیف منسٹر اس کا سخت نوٹ لیں۔ طلبہ کو ایسے حادثات سے بچانے کیلئے ضروری اقدامات کریں ۔ وزارت تعلیم قلمدان بھی چیف منسٹر ریونت ریڈی کے پاس ہے ، لہذا ذ مہ داری چیف منسٹر پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ انٹیگریٹیڈ اسکولس پر 20 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں، وہیں گروکل میں زیر تعلیم طلبہ کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر ہارورڈ یونیورسٹی پہنچ کر تصویر کشی کے ذریعہ خوب تشہیر لٹی ہے لیکن ریسیڈنشیل اسکول اور کالجس میں زیر تعلیم غریب طلبہ کی ابتر صورتحال ہے۔ طلبہ کے والدین میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کو مرنے کیلئے ریسیڈنشیل اسکولس روانہ کر رہے ہیں ۔ حکومت فوری نیند سے بیدار ہوں اور ایسے مسائل پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے طلبہ کی زندگیوں کی حفاظت کریں۔ بصورت دیگر بی آر ایس پارٹی کی جانب سے بڑے پیمانہ پر احتجاجی مہم شروع کرنے کا انتباہ دیا۔2