ریسیڈنشیل اسکولس کے مسائل پر اسمبلی میں گرما گرم مباحث

   

ریاستی وزیر پونم پربھاکر اور بی آر ایس کے رکن اسمبلی گنگولہ کملاکر کے درمیان نوک جھونک
حیدرآباد ۔ 18 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : ریاست میں ریسیڈنشیل اسکولس کے طلبہ کے مسائل پر اسمبلی میں حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے درمیان گرما گرم لفظی بحث و تکرار ہوگئی ۔ اسمبلی میں آج ریسیڈنشیل اسکولس کے طلبہ کے مسائل پر مختصر مباحث کا اہتمام کیا گیا ۔ بی آر ایس کی طرف سے مباحث میں کریم نگر کے رکن اسمبلی سابق وزیر گنگولہ کملاکر نے حصہ لیا ۔ حالیہ دنوں میں ریاست کے مختلف ریسیڈنشیل تعلیمی اداروں میں مختلف وجوہات سے طلبہ کی اموات پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ طلبہ کی اموات کے لیے حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزید کتنے طلبہ کے موت کا انتظار کیا جائے گا ۔ فوری ریسیڈنشیل تعلیمی اداروں کے مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ جس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی وزیر قبائلی بہبود سیتااکا نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ریاست کے مختلف مقامات پر سمیت غذا کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں ۔ جس کا ہم اعتراف کرتے ہیں حکومت ریسیڈنشیل اسکولس کی ترقی اور طلبہ کے فلاح و بہبود کے معاملے میں عہد کے پابند ہے ۔ طلبہ کے ڈائیٹ چارجس میں 40 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ عالمی معیار کے 54 ینگ انڈیا اسکولس تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں سماج کے تمام طبقات کے لیے ریسیڈنشیل اسکولس قائم کئے گئے تاہم ان کے لیے ذاتی عمارتیں اور دیگر انفراسٹرکچر کی سہولت فراہم نہیں کی گئی ۔ کانگریس حکومت تشکیل پانے کے بعد اندرون ایک سال تعلیمی شعبہ کو ترقی دینے کے لیے بڑے پیمانے پر انقلابی اقدامات کیے گئے ۔ ریسیڈنشیل تعلیمی اداروں کے علاوہ محکمہ تعلیم میں 55 ہزار جائیدادوں پر تقررات کئے گئے ۔ اسی مسئلہ پر ریاستی زیر بی سی ویلفیر پونم پربھاکر نے بی آر ایس کے دور حکومت میں ریسیڈنشیل اسکولس کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ۔ جس پر گنگولہ کملاکر نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسمبلی کو پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے پونم پربھاکر کو زیب نہیں دیتا کہ میری تقریر میں مداخلت کریں ۔ جس پر ریاستی وزیر بی سی ویلفیر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایم پی کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ پہلی مرتبہ منتخب ہونے کے ریمارکس سے دستبردار ہوجانے کا مطالبہ کیا ۔ ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ پہلی مرتبہ منتخب ہو یا ایک سے زیادہ منتخب ہو تمام ارکان کا یکساں احترام کیا جانا چاہئے ۔۔ 2