ریلائنس انفرا سے 76 ایکڑ اراضی واپس لینے حکومت تلنگانہ کا غور

   

انیل امبانی کی کمپنی نے اراضی کی مکمل قیمت ادا نہیں کی ۔ 13 سال بعد بھی اراضی پر تعمیراتی کام شروع نہیں ہوسکا

حیدرآباد۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے ریلائنس انفرا اسٹرکچر لمیٹیڈ میں ہونے والی تبدیلیوں پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ کچھ بینکوں کی جانب سے اس گروپ کی جائیدادوں کو قرض کی عدم ادائیگی پر ضبط کیا جانے لگا ہے ۔ گدشتہ دنوں یس بینک کی جانب سے ریلائنس انفرا اسٹرکچر کے ہیڈ آفس واقع ممبئی کو ضبط کرلیا گیا تھا تاکہ 2,892 کروڑ روپئے قرض کی وصولی کو یقینی بنایا جاسکے کیونکہ انیل امبانی کی ملکیت والی اس کمپنی نے قرض ادا نہیں کیا تھا ۔ واضح رہے کہ متحدہ آندھرا پردیش میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی قیادت والی کانگریس حکومت نے ریلائنس انفرا اسٹرکچر کو 76 ایکڑ اراضی شہر کے مضافاتی علاقہ میں محض 517 کروڑ روپئے کی قیمت پر الاٹ کی تھی ۔ کمپنی اس اراضی پر 100 منزلہ ٹاور تعمیر کرنا چاہتی تھی ۔ تاہم کمپنی نے اب تک اس رقم میں سے صرف 250 کروڑ روپئے ہی ادا کئے ہیں۔ اراضی کے الاٹمنٹ کے 13 برس کے بعد بھی کمپنی نے اس ٹاور پر کام بھی شروع نہیں کیا ہے ۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریلائنس انفرا کمپنی سے یہ اراضی واپس حاصل کرلینے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ اس پس منظر میں ریاستی حکومت کے متعلقہ محکمہ جات سے تعلق رکھنے والے عہدیداران دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لینے میں مصروف ہیں اور یہ پتہ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا ریلائنس انفرا نے یہ اراضی بھی کسی بینک میں گروی رکھتے ہوئے قرض تو حاصل نہیںکیا ہے اور آیا کوئی بینک یہ اراضی ضبط کرنے کے تیاریوں میں تو نہیں ہے ۔