ریلائنس کی 1 شیئر پر 1 بونس شیئر جاری کرنے کی تجویز

   

5 ستمبر کو بورڈ کاغور‘ہندوستان ترقی کی گاڑی نہیں انجن ہے‘مکیش امبانی کا خطاب

نئی دہلی : ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی کا بورڈ 5 ستمبر کو میٹنگ میں ایک شیئر پر ایک بونس شیئر ایشو کی تجویز پر غور کرے گا۔ اگر یہ منظور ہو جاتا ہے تو ریلائنس کے شیئر ہولڈرز کو ہر ایک شیئر کیلئے ایک اضافی بونس شیئر ملے گا۔ جمعرات کو جب یہ خبرآئی تو اس وقت ریلائنس کا شیئر 3070 روپے پر ٹریڈ ہورہا تھا۔ آج اس میں 2.40 فیصد تک کی چھلانگ دکھائی دی۔ بونس کا اجرا عام طور پر کمپنیوں کے ذریعہ شیئر ہولڈرز کو انعام دینے اور شیئر کی لیکویڈیٹی بڑھانے کے مقصد سے کیا جاتا ہے۔بونس شیئر ایک کمپنی کی طرف سے اپنے موجودہ شیئر ہولڈرز کو دیا جانے والا اضافی شیئر ہوتا ہے۔ یہ شیئرز کمپنی کے منافع کے طور پر نہیں دیے جاتے ہیں بلکہ کمپنی کے ریزرو سے دیے جاتے ہیں۔ جب کوئی کمپنی بونس شیئرز جاری کرتی ہے تو اس کے موجودہ شیئرز کی تعداد بڑھ جاتی ہے لیکن کمپنی کے کل اثاثوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔بونس شیئرز جاری کرکے کمپنی شیئرز کی قیمت کو کم کر سکتی ہے جس سے اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔شیئر ہولڈرز کو خوش کرنے کیلئے بونس شیئرز جاری کر کے کمپنی اپنے شیئر ہولڈرز کو خوش کر سکتی ہے اور ان کا اعتماد بڑھا سکتی ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز کی سالانہ جنرل میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کمپنی کے چیئرمین مکیش امبانی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مسلسل تیسری جیت پر مبارکباد دی۔ مکیش امبانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ گلوبل ساؤتھ میں ترقی سے متعلق تفاوت کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ترقی کا انجن ہے نہ کہ صرف گاڑی۔ انہوں نے کہا کہ ہم قلیل مدتی منافع کمانے اور دولت جمع کرنے کے کاروبار میں نہیں ہیں۔ ریلائنس اب ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ریلائنس نے آخری بار ستمبر 2017 میں ‘بونس شیئرز’ جاری کیے تھے۔ انہوں نے بتا یا کہریلائنس جیو دنیا کی سب سے بڑی موبائل ڈیٹا کمپنی بن گئی ہے ، دنیا کے موبائل ڈیٹا ٹریفک کا 8 فیصد صرف جیو کے نٹ ورک پر چلتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کمپنی کے کسٹمر بیس اور ڈیٹا کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ ریلائنس جیو کو لانچ ہوئے صرف 8 سال ہوئے ہیں اور ان آٹھ سال میں اس نے دنیا کی سب سے بڑی موبائل ڈیٹا کمپنی بننے کا کارنامہ انجام دیا ہے