نئی دہلی۔28 جون (سیاست ڈاٹ کام) ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) میں کئی خاتون کانسٹیبل کے تقررات عمل میں لائے جارہے ہیں۔ اس وقت خاتون فورس کی تعداد قابل لحاظ ہے۔ تاہم حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔ 50 فیصد مخلوعہ جائیدادوں پر لیڈی کانسٹیبلس کا تقرر عمل میں لایا جائے۔ آر پی ایف میں اس وقت 9 ہزار جائیدادیں خالی ہیں۔ وزیر ریلوے پیوش گوئل نے راجیہ سبھا میں کہا کہ آر پی ایف میں اس وقت لیڈی کانسٹیبل کی نمائندگی 2.25 فیصد ہے۔ تمام ریلوے شعبہ میں لیڈی کانسٹیبل کی تعداد بہت کم پائی جاتی ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزیراعظم نے لیڈی کانسٹیبل کے تقررات کی ہدایت دی ہے۔ راجیہ سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے بعد ریلوے میں لیڈی کانسٹیبل تقررات کی تعداد 9 ہزار تک بڑھادی گئی ہے۔ ہم اب لیڈی کانسٹیبل کے تقررات پر توجہ دے رہے ہیں اور اس سلسلہ میں جملہ مخلوعہ جائیدادوں میں سے 50 فیصد یعنی 4500 لیڈی کانسٹیبلس کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔ سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے لیے 35 فیصد تحفظات پر غور کرنے مرکز کے تیقن کا سوال اٹھاتے ہوئے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ حکومت بہار نے 35 فیصد تحفظات خواتین کو دینے کا فیصلہ کیا ہے وہ مرکز کی سطح پر نہیں ہے۔ لہٰذا اس میں تقررات نہ کیئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ ریاستی حکومت کا مسئلہ ہے۔ آر پی ایف صرف ریلوے انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے ذمہ دار ہے۔ گورنمنٹ ریلوے پولیس لا اینڈآرڈر کی نگرانی کرتی ہے اور یہ ریاستی حکومت کے تحت کام کرتی ہے۔