ہائی کمان کی طلبی پر دہلی روانہ،طویل مشاورت کے بعد فیصلہ
ارکان اسمبلی کی اکثریت کے علاوہ عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ریونت ریڈی کو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کیا جارہا ہے۔ کانگریس کو اسمبلی میں 64 ارکان کے ساتھ سادہ اکثریت حاصل ہوئی ہے اور موجودہ مرحلہ میں کسی بھی طرح کی ناراض سرگرمیوں سے نہ صرف پارٹی بلکہ حکومت کو نقصان ہوسکتا ہے۔ پارٹی کے وسیع تر مفاد کو دیکھتے ہوئے اتم کمار ریڈی اور بھٹی وکرامارکا اپنی دعویداری سے دستبردار ہوگئے۔ ریونت ریڈی کے نام کے اعلان کے ساتھ ہی نومنتخب ارکان اسمبلی نے خوشیاں منائی اور ریونت ریڈی کو مبارکباد پیش کی۔ کانگریس قائدین اور کیڈر نے بھی ریونت ریڈی کے چیف منسٹر بنائے جانے پر جشن منایا اور شہر کے علاوہ اضلاع میں آتشبازی کی گئی۔ گاندھی بھون میں ریونت ریڈی کے حامیوں کی کثیر تعداد جمع ہوگئی اور ریونت ریڈی کے حق میں نعرے لگائے۔ واضح رہے کہ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس کل حیدرآباد میں ہوا جس میں ڈی کے شیو کمار اور دیگر مبصرین کی موجودگی میں تین قراردادیں منظور کی گئیں۔ پہلی قرارداد میں تلنگانہ عوام سے اظہار تشکر کیا گیا جبکہ دوسری قرارداد میں سونیا گاندھی، راہول گاندھی، پرینکا گاندھی اور ملکارجن کھرگے سے انتخابی مہم میں حصہ لینے پر اظہار تشکر کیا گیا۔ تیسری قرارداد میں سی ایل پی لیڈر کے انتخاب کا اختیار صدر کانگریس کو دیا گیا۔ قبل ازیں ملکارجن کھرگے نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام تک نئے لیڈر کے نام کا اعلان کردیا جائے گا۔ ملکارجن کھرگے کی قیامگاہ پر ’ انڈیا اتحاد‘ کی حلیف جماعتوں کے اجلاس کے پیش نظر تلنگانہ کے بارے میں فیصلہ کرنے میں تاخیر ہوئی ہے۔