ریونت ریڈی حکومت میں مسلمان یکسر نظرانداز

   

اقلیتی بجٹ کا آدھا حصہ بھی خرچ نہیں کیا گیا ، بی آر ایس لیڈر ہریش راؤ کا الزام
سدی پیٹ : 2اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) اسمبلی میں ڈپٹی لیڈر بی آر ایس دس روزہ اجلاس میں چار گھنٹے سولا منٹ کی اپنی تقریر میں مسلم اقلیتوں کے مسائل پر کانگریس سرکار کو گھیرنے کے بعد، ہریش راؤ سے ملاقات کر کے سدی پیٹ کے مسلم اقلیتی رہنماؤں اور مذہبی شخصیات جن میں محمد فخر الدین ، معیز کاؤنسلر، بابو جانی ، احمد،آداب معیز،جمو خاں،ارشاد حسین ، محمد غوث، شاھد ، منصور ، سجو نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شال پوشی کی.اس موقع پر ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس سرکار نے مسلم اقلیتوں سے کیے گئے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مسلمانوں کی فلاح کے لیے 4 ہزار کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن صرف 3500 کروڑ روپے ہی بجٹ میں رکھے گئے، جن میں سے بھی صرف 1600 کروڑ روپے ہی خرچ کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی حکومت میں مسلمانوں کی فلاح کے لیے مختص بجٹ کا زیادہ تر حصہ خرچ کیا جاتا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی حکومت میں اردو اکیڈمی کے 130 ملازمین کو پچھلے نو ماہ سے تنخواہیں نہیں دی جا رہیں۔ اسی طرح ائمہ اور مؤذنین کو 12 ہزار روپے ماہانہ دینے کا وعدہ بھی اب تک پورا نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ریونت سرکار مسلمانوں کو نظرانداز کر رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بی آر ایس حکومت میں، تلنگانہ کے پہلے وزیر اعلیٰ کے سی آر نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کو غیر معمولی ترجیح دی تھی۔انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے دور میں قائم کیے گئے ٹی ایم آر ای ایس اسکولوں میں 1,20,000 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے تھے، لیکن کانگریس سرکار آنے کے بعد 30,000 طلبہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسلمانوں کی فلاح کو نظرانداز کیا گیا تو بی آر ایس خاموش نہیں بیٹھے گی، اور ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔