ناگرجنا ساگر کی کشیدہ صورتحال کیلئے کے سی آر ذمہ دار، سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کا الزام
حیدرآباد 30 نومبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے آج کوڑنگل کے ضلع پریشد ہائی اسکول میں حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ ریونت ریڈی نے رائے دہی مرکز روانگی سے قبل اپنی اہلیہ اور دیگر افراد خاندان کے ساتھ خصوصی پوجا کی اور پھر بوتھ نمبر 237 پہونچ کر حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ اِس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہاکہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ تلنگانہ جذبہ کے ذریعہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ناگر جنا ساگر پراجکٹ کے پاس آندھراپردیش اور تلنگانہ پولیس کی جانب سے تصادم کی صورتحال بناوٹی ہے تاکہ عوامی ہمدردی حاصل کی جاسکے۔ پانی کے مسئلہ پر دونوں تلگو ریاستوں میں تنازعہ کا بہانا بناکر چیف منسٹر رائے دہندوں میں تلنگانہ جذبہ فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں اور دونوں حکومتوں نے منصوبہ بندی کے ساتھ یہ کارروائی کی۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ عین رائے دہی سے قبل ناگر جنا ساگر پراجکٹ کے پاس کشیدگی کا ماحول باعث حیرت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ریاست کی تقسیم کے بعد دریائے کرشنا کے پانی پر دونوں تلگو ریاستوں کی حصہ داری سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اُنھوں نے کہاکہ نئی حکومت کی تشکیل تک چیف الیکٹورل آفیسر کو اِس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے کشیدگی کا ماحول ختم کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ 9 ڈسمبر کو کانگریس حکومت کی تشکیل کے بعد نئی حکومت آندھراپردیش سے آبی تنازعہ پر بات چیت کرے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ ناگرجنا ساگر پراجکٹ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آندھراپردیش پولیس کی جانب سے ناکہ بندی محض رائے دہی میں بی آر ایس کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے کے سی آر نے یہ سازش رچی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کے سی آر لاکھ سازش کرلیں لیکن رائے دہی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔