کے سی آر نے تلنگانہ کو جمعرات بازار میں بیچ دیا، بس یاترا سے ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔/29 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ ریونت ریڈی کو خریدنے والا ابھی تک پیدا نہیں ہوا اور کے سی آر شکست کے خوف سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر گھٹیا بیان بازی پر اتر آئے ہیں۔ کانگریس کی بس یاترا کے موقع پر سنگاریڈی اور میدک میں خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر مجھے چلر اور بکاؤ قرار دے رہے ہیں جبکہ خود کے سی آر نے تلنگانہ کو جمعرات بازار میں فروخت کردیا ہے۔ کے سی آر کو کانگریس اور کانگریس قائدین پر تنقید کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کے سی آر کو چیلنج کیا کہ وہ کرناٹک کا دورہ کرتے ہوئے کانگریس حکومت کی جانب سے انتخابی وعدوں پر عمل آوری کا جائزہ لیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کرناٹک جانے کیلئے کانگریس پارٹی خصوصی بس کا انتظام کرنے کیلئے تیار ہے۔ بس کو پرگتی بھون بھیجنا ہے یا پھر گجویل میں فارم ہاوز کو بھیجا جائے۔ کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیو کمار نے کل کے سی آر کو کرناٹک کے دورہ کا چیلنج کیا تھا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر کو شکست کا یقین ہوچکا ہے اوروہ عوام کو فلاحی اسکیمات کے ختم ہونے سے ڈرارہے ہیں۔ کے سی آر نے شکست کے بعد آرام کرنے کی بات کہتے ہوئے بی آر ایس کی شکست کو تسلیم کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کرتے ہوئے دھوکہ دیا۔ فلاحی اسکیمات کی امدادی رقم مقررہ وقت پر جاری نہیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوڑنگل میں کرایہ کے لوگوں کو لاکر انہیں کرناٹک کے کسانوں کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ کرناٹک کی کانگریس حکومت کو بدنام کیا جائے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ سونیا گاندھی نے جن6 ضمانتوں کا اعلان کیا ان پر برسراقتدار آتے ہی عمل کیا جائے گا۔ صدر پردیش کانگریس نے کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ جدوجہد کے دوران سماج کے ہر طبقہ سے جو وعدے کئے تھے انہیں فراموش کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور ان کے افراد خاندان نے کرپشن کا ریکارڈ قائم کیاہے۔ تلنگانہ میں کانگریس برسراقتدار آتے ہی عوام کی خوشحالی اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جگا ریڈی اور مائنم پلی روہت کو 50 ہزار سے زائد ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک لاکھ کروڑ کی بدعنوانی سے تعمیر کردہ کالیشورم پراجکٹ کے تحت میڈی گٹہ برج ناقص تعمیر کے سبب غرق ہوچکا ہے اس معاملہ کی مکمل جانچ ہونی چاہیئے۔ بس یاترا کے دوران ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔