زرعی قوانین کی منسوخی کوکابینہ کی منظوری متوقع

,

   

۔ 24نومبر کو مرکزی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ ،پارلیمنٹ سیشن میں بل کی پیشکشی

نئی دہلی: مرکزی کابینہ کا چہارشنبہ 24 نومبر کو اجلاس منعقد ہوگا جس میں متنازعہ تین زرعی قوانین کی منسوخی کو منظوری دینے کا امکان ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 20 نومبر کو زرعی قوانین کی منسوخی کا اعلان کیا ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد 29 نومبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن میں اس تجویز کو پیش کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق مرکزی کابینہ چہارشنبہ کو ہونے والے اپنے اجلاس میں تین زرعی قوانین کو واپس لینے کی منظوری دے سکتی ہے ۔ کابینہ سے منظوری کے بعد قوانین کی واپسی سے متعلق بل پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گرو پرو کے موقع پر قوم سے اپنے خطاب میں قوم کے مفاد میں قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کسانوں کو یقین دلایا ہے کہ پارلیمنٹ کا اگلا اجلاس شروع ہوتے ہی ان قوانین کو واپس لے لیا جائے گا۔ مودی نے احتجاج کرنے والے کسانوں سے احتجاج ختم کرنے اور گھر جانے کی اپیل کی تھی۔ گزشتہ سال ملک میں تین زرعی قوانین متعارف ہونے کے بعد سے کئی کسان تنظیمیں ان قوانین کے خلاف دہلی سمیت کئی مقامات پر احتجاج کررہی ہیں۔ کسانوں کی تنظیموں کی طرف سے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مسلسل مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ کئی بار کسان اور حکومت کے درمیان ثالثی کی بات ہوئی لیکن یہ کامیاب نہیں ہوسکی۔ وزیرزراعت نے نریندرتومر نے کہا تھا کہ زرعی قوانین کسانوں کے فائدہ کیلئے ہے لیکن انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ قوانین کے فوائد کو کسان تنظیموں کو سمجھانے میں حکومت ناکام رہی ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم کی جانب سے زرعی قوانین کی منسوخی کے اعلان کے باوجود کسان اپنے احتجاج پر اٹل ہیں۔ ان کا کہنا ہیکہ پارلیمنٹ میں اس کی منسوخی کے علاوہ اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے مطالبہ کو بھی حکومت تسلیم کرے۔ وزیراعظم کے زرعی قوانین کو منسوخی کے اعلان کا اگرچہ اپوزیشن جماعتوں نے خیرمقدم کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہیکہ ملک کی بعض ریاستوں میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔