زرعی قوانین کے خلاف شہر کے مضافات میں ریالی

   


کے سی آر پر مودی سے ساز باز کرنے سی پی آئی ، سی پی ایم ، ٹی جے ایس کے قائدین کا الزام
حیدرآباد :۔ زرعی قوانین کے خلاف دہلی میں احتجاج کرنے والے کسانوں کے احتجاج سے اظہار یگانت کسان تنظیموں اور کمیونسٹ جماعتوں کی جانب سے اُپل میں ریتو ریالی کا اہتمام کیا گیا ۔ سرور نگر تا اپل ریالی منظم کرتے ہوئے احتجاج کیا گیا۔ اس ریالی میں تلنگانہ سی پی آئی کے سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی تلنگانہ سی پی ایم کے سکریٹری ٹی ویرا بھدرم ٹی جے ایس کے سربراہ پروفیسر کودنڈا رام کے علاوہ دوسروں نے شرکت کی ۔ سی پی ایم کے سکریٹری ٹی ویرا بھدرم نے کسانوں کے خلاف زرعی قانون بناتے ہوئے مخالف کسان پالیسیوں پر عمل کرنے کا مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا ۔ جس کے خلاف سارے ملک میں کسان احتجاج کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے یوم جمہوریہ کو یوم سیاست میں تبدیل کردینے کا الزام عائد کیا ۔ زرعی قوانین پر چیف منسٹر کے سی آر کے یوٹرن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کے سی آر اپنے فرزند کو چیف منسٹر بنانا چاہتے ہیں تو وہ وزیراعظم کو نہیں بلکہ تلنگانہ کے عوام کو جھک کر سلام کریں ۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ سازباز ہوجانے کا الزام عائد کیا ۔ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے کسانوں کے احتجاج کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت زرعی قوانین سے فوری دستبردار ہوجائے بصورت دیگر احتجاج میں شدت پیدا کردینے کا انتباہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر تلنگانہ کی حکومت کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے آگے نہیں آئے گی تو کسانوں کے احتجاج کی لپیٹ میں ٹی آر ایس بھی آجائے گی ۔ اور مستقبل میں ٹی آر ایس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ ٹی جے ایس کے سربراہ پروفیسر کودنڈا رام نے کہا کہ زراعت کے معنی کمپنی نہیں ہے بلکہ زراعت کے معنی کسان ہیں مگر کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کرکے وزیر اعظم نریندر مودی کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہونچا رہے ہیں ۔ قوانین کسانوں کو نقصان پہونچانے کے لیے نہیں بلکہ فائدہ پہونچانے کے لیے بنائے جانا چاہئے ۔ لیکن مرکزی و تلنگانہ حکومتوں کے فیصلے عوام کے خلاف ہیں ۔۔