محبوب نگر ۔ قوم بنی اسرائیل نے تابوتِ سکینہ سے اکتسابِ فیض کیا۔ آثار شریفہ اور تبرکات سے استفادہ ایمان میں تازگی اور حرارت کا باعث ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا سید شاہ محسن احمد قادری، نقشبندی، مفتی محمد شفاعت علی قادری نے اپنے خطابات میں کیا۔ حضرت سید شاہ ملک حسین بابا قادری ؒ کے بیسویں سالانہ عرس شریف کے موقع پر حضرت سید دادے شاہ پیر قادری ؒ بعد نماز جمعہ تاقبل مغرب زیارت آثار شریف و تبرکاتِ کثیرہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ نارائن پیٹ میں پہلی مرتبہ زیارت آثار شریف کا نظم کیا گیا تھا۔ علماء و مشائخین نے اپنی مخاطبت میں مزید کہا کہ اللہ جل مجدہ نے انبیاء علیہم السلام کے تبرکات کے عوض رحمت نازل فرمائی اور دعاؤں کو قبول فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعۃ الوداع کے موقع پر حضرت طلحہ ؓ کو اپنے زلف، موئے مبارک اور ناخن مبارک ترشوا کر عنایت فرمائے تھے اور ارشاد فرمایا تھا کہ ان کو تمام صحابۂ کرام میں تقسیم کردو۔ فاتح اعظم حضرت خالد بن ولید ؓ نے موئے مبارک کو اپنے عمامہ میں رکھ کر جنگیں لڑی تھیں۔ ہزاروں مسلمانوں نے آثار مبارک کی زیارت کی۔
