علیگڈھ 4 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) اترپردیش پولیس نے سابق آئی پی ایس عہدیدار عبدالرحمن کو علیگڈھ مسلم یونیورسٹی میں مخالف سی اے اے احتجاجیوں سے خطاب کرنے سے روک دیا ۔ انہیں خطاب سے قبل ہی حراست میں لے لیا گیا ۔ پولیس نے عبدالرحمن کو گرفتار کرنے کے بعد لودھا پولیس اسٹیشن علیگڈھ منتقل کیا اور پھر انہیں دہلی بھیج دیا گیا ۔ عبدالرحمن نے ماہ ڈسمبر میں آئی پی ایس سے استعفی پیش کردیا تھا اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اپنا احتجاج درج کروایا تھا ۔ عبدالرحمن نے کہا تھا کہ یہ ترامیم دستور کے بنیادی ڈھانچہ کے خلاف ہیں۔ عبدالرحمن مہاراشٹرا کے اسپیشل انسپکٹر جنرل پولیس رہ چکے ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے انہیں ایک تحریری نوٹس دی ہے کیونکہ اسے اندیشے تھے کہ یونیورسٹی میں ان کی موجودگی سے لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے ۔ عبدالرحمن نے پولیس کی ہدایات کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم کہا کہ وہ اجازت ملنے پر واپس بھی آسکتے ہیں۔ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی رابطہ کمیٹی کے رکن فیض الحسن نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ چاہتا ہے کہ شہریت قانون کے خلاف جاری تحریک کو روکا جائے اور باہر سے آنے والے مقررین کو داخلہ نہ دیا جائے ۔ جو لوگ اظہار یگانگت کیلئے آ رہے ہیں انہیں موقع نہیں دیا جا رہا ہے ۔ حکومت نہیں چاہتی کہ ہمارے حوصلے بڑھانے کوئی یہاں آئے ۔ یہ احتجاج کو کچلنے کیلئے حکومت کی جانب سے اختیار کردہ حکمت عملی کا حصہ ہے ۔