سپریم کورٹ میں درخواست دائر ۔ صدارتی حکمنامہ کو غیر دستوری اور غیر کارکرد قرار دینے کی استدعا ۔ حکومت کے طریقہ کار پر بھی سوال
نئی دہلی 18 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق عہدیداران محکمہ دفاع اور سابق بیوروکریٹس کے ایک گروپ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے دستور کے دفعہ 370 کوبرخواست کرنے کے صدارتی حکمنامہ کو چیلنج کیا ہے ۔ اس دفعہ کے ذریعہ جموں و کشمیر کو خصوصی موقف حاصل تھا ۔ جو تازہ درخواست دائر کی گئی ہے وہ وزارت داخلہ کے جموںو کشمیر پر تشکیل دئے گئے مصالحت کاروں کے گروپ کے رکن پروفیسر رادھا کمار کی ہے ۔ اس کے علاوہ اس درخواست کو پیش کرنے والوں میں سابق آئی اے ایس عہدیدار جموں و کشمیر کیڈر ہندال حیدر طیب جی ‘ ائر وائس مارشل ( ریٹائرڈ ) کپل کاک ‘ میجر جنرل ( ریٹائرڈ ) اشوک کمار مہتا ‘ سابق پنجاب کیڈر آئی اے ایس عہدیدار امیتابھا پانڈے اور سابق کیرلا کیڈر آئی اے ایس عہدیدار گوپال پلائی بھی شامل ہیں۔ گوپال پلائی 2011 میں معتمد داخلہ کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے تھے ۔ ان تمام نے اپنی درخواست کے ذریعہ سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے جو صدارتی حکمنا مہ اس سلسلہ میں جاری کیا گیا تھا اسے غیر دستوری ‘ بے سود اور غیر کارکرد قرار دیا جائے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی غیر دستوری اقدام ہے ۔ مرکزی حکومت نے دستور کے دفعہ 367 میں ترمیم کے ذریعہ جس طرح سے دفعہ 370 کو ختم کیا ہے وہ دستور کے مغائر ہے ۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاست کو خود مرکزی زیر انتظام علاقہ قرار دیتے ہوئے اس کے رتبہ اور مقام کو گھٹا دیا گیا ہے اور دو مرکزی زیر انتظام علاقے قرار دیدئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ فیصلے ریاست کے عوام کو مکمل محصور کرتے ہوئے کئے گئے ہیں اور اس کے ذریعہ جموں و کشمیر کے عوام کو کوئی موقع ہی نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی رائے ظاہر کریں۔ انہوں نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اس اقدام سے سابقہ ریاست جموں و کشمیر کو ہی غیر یقینی کردیا گیا ہے اور اس کی سالمیت کو ہی خطرہ میں ڈال دیا گیا ہے ۔ سابق دفاعی عہدیداروں اور بیوروکریٹس نے جموں و کشمیر ( تنظیم جدید ) قانون 2019 کو غیر دستوری اور غیر کارکرد قرار دیا ہے ۔
درخواست گذاروں کا کہنا ہے کہ دفعہ 370 کو صدر جمہوریہ کی جانب سے اعلامیہ کی اجرائی کے وقت سے ہی کار کرد قرار دیا جانا چاہئے کیونکہ ایسا صدارتی اعلامیہ اس وقت تک جاری نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ ریاست کی اسمبلی ایسا کرنے کی سفارش نہ کرے ۔ یہ سب کچھ دستور ہند میں تحریر ہے ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں دستور کے دفعہ 370 کو حذف کئے جانے کے خلاف تقریبا چھ درخواستیں دائر کی گئی ہیں اور یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ وہاں پر جو تحدیدات عائد کی گئی ہیں انہیں برخواست کیا جائے ۔ یہ درخواستیں ایڈوکیٹ ایم ایل شرما ‘ کانگریس کارکن تحسین پونا والا ‘ ایڈوکیٹ شاکر شبیر ‘ نیشنل کانفرنس کے ارکان پارلیمنٹ محمد اکبر لون اور حسنین مسعودی کے علاوہ ایگزیکیٹیو ایڈیٹر کشمیر ٹائمز انورادھا بھاسن نے داخل کی ہیں۔ 16 اگسٹ کو سپریم کورٹ نے جموںو کشمیر کے موقف میں تبدیلی کے فیصلے کے قانونی پہلووں کا جائزہ لینے سے گریز کیا تھا اور کہا تھا کہ دفعہ 370 کو حذف کرنے جیسے حساس نوعیت کے مسئلہ پر جو درخواستیں داخل کی گئی ہیں ان میں نقائص ہیں اور اتنے اہم مسئلہ پر اس طرح کی نقص والی درخواستیں پیش نہیں کی جانی چاہئیں ۔