سابق فوجی سربراہ نروانے کی کتاب سے حکومت پریشان

   

روش کمار
ملک میں آج کل سابق فوجی سربراہ نروانے کی کتاب Four Stars of Destiny کے کافی چرچہ ہیں۔ حالانکہ یہ کتاب ابھی منظر عام پر نہیں آئی۔ کہا جارہا ہے کہ جہاں حکومت اس کتاب کو لے کر پریشان ہے، وہیں قائد اپوزیشن راہول گاندھی جنرل (ریٹائرڈ) نروانے کی کتاب کے چند اقتباسات کے ذریعہ حکومت کو حیران و پریشان کردیا۔ بہرحال ایک سوال آپ تمام سے وہ یہ کہ ہندوستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل ایم ایم نروانے کی کتاب ’’فور اسٹارس آف ڈیسٹینی‘‘ کیوں شائع نہیں کی جارہی ہے۔ اس سے بھی بڑا سوال ہے کہ جب اس کتاب کو لے کر بحث چل رہی ہے۔ تب جنرل ایم ایم نروانے خود کیوں اس بارے میں بات نہیں کررہے ہیں۔ فوج کے اعلیٰ عہدہ سے سبکدوش ہوئے فرد کو سامنے آکر نہیں بتانا چاہئے کہ اس کتاب کو لے کر انہیں کیا کچھ برداشت کرنا پڑا اور جو باتیں کہی جارہی ہیں انہوں نے ہی لکھی اس پوری بحث میں ان کے بیان کو نوٹ کیا جارہا ہے۔ پچھلے سال اکٹوبر میں ہماچل پردیش کے ایک علاقہ میں لٹریچر فیسٹیول میں جنرل نروانے نے کتاب کو لے کر ایک بیان دیا تھا، اسی کا ابھی تک حوالہ دیا جارہا ہے۔ کیا جنرل نروانے کو اس کتاب کے Status پر تازہ بیان نہیں دینا چاہئے۔ پارلیمنٹ میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی مسلسل اس کتاب کے ایک حصہ کو پڑھنا چاہتے ہیں اور انہیں کتاب کے چند اقتباسات کو پڑھنے نہیں دیا جارہا ہے۔ جنرل نروانے کیوں خاموش ہیں؟ وادی گلوان میں چین کے ساتھ جنگ میں ہندوستان کے مفادات کو نظرانداز کردیا گیا۔ حکومت نے لاپرواہی کا ارتکاب کیا۔ کیا یہ بات ہندوستانی عوام کو نہ بتائی جائے ضروری محسوس کیا ہوگا تب ہی تو انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہوگا تو اب کیوں آگے آکر جنرل نروانے اپنی اس کتاب کے اس حصہ کی بات نہیں کرتے۔ ایک جنرل کو بھی ڈر لگتا ہوگا کہ کیا ان سے ان کی ترغیبات کوئی چھین لے گا ، ٹھیک ہے کتاب میں کیا لکھا ہے، اگر اس کے بارے میں انہیں تفصیل سے نہیں بولنا ہے، نہ بولیں لیکن اتنا تو کہہ سکتے ہیں کہ جو لکھا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے۔ وزارت دفاع کی کمیٹی تین سال سے اشاعت کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ اس تاخیر کا دن پر کیا اثر پڑا ہے، اس پر تو کچھ کہہ سکتے ہیں۔ کیا کتاب کی اشاعت کو لے کر کمیٹی نے ان سے کچھ پوچھا ہے؟ سوال جواب ہوا ہے۔ اس پر بھی کچھ کہہ سکتے ہیں۔ ملک میں کیا خوف ہر جگہ پہنچ گیا ہے، لیکن بہت سارے لوگ تب بھی اس ملک میں اپنا منہ کھول رہے ہیں۔ بول رہے ہیں۔ بولنے کے خطرات اٹھا رہے ہیں۔ پھر جنرل نروانے کیوں نہیں بول رہے ہیں۔ اتنا تو کہہ سکتے ہیں کہ ’’کارواں‘‘ میگزین میں جو کچھ شائع ہوا ہے، وہ ان کی ہی کتاب کا حصہ ہے، جو انہوں نے لکھا ہے۔ ایک جنرل کی خاموشی اور کیا کہنا چاہتی ہے۔ انہیں تو عام ہندوستانی سے زیادہ بولنا چاہئے۔ آگے آکر بولنا چاہئے۔ کیا یہ بات اتنی آسان ہے کہ ہم نے ناشر کو اپنی کتاب دے دی۔ اب وہی جانیں، کیا انہیں نہیں پتہ کہ وزارت دفاع کی ایک کمیٹی اس کتاب کی جانچ کررہی ہے۔ کانگریس کے رکن راجیہ سبھا اور سپریم کورٹ کے وکیل وویک نے جنرل نروانے کے ایک پرانے بیان پر ٹوئٹ کیا کہ جنرل نروانے اس کتاب کو لے کر جو جھوٹ کہا جارہا ہے، اس میں آپ دو سال تاخیر کرچکے ہیں۔ سابق فوجی سربراہ اور فوج کے اعلیٰ عہدیدار کی حیثیت سے ملک آپ سے اُمید کررہا ہے کہ آپ اپنے بیان پر قائم رہیں گے جو آپ نے 2023ء کے ٹوئٹ میں لکھا ہے۔ یہ ملک فوج کا احترام کرتا ہے مگر آپ نے شرمسار کیا ہے۔ وویک کی یہ تنقید بے حد سخت ہے۔ جنرل نروانے کی خاموشی پر بحث ہورہی ہے۔ انہوں نے صرف ایک سطری بیان دیا ہے۔ ’’انڈین ایکسپریس‘‘ کی ایک رپورٹ ہے کہ 2020-24ء کے درمیان مرکزی وزارت کے پاس 35 کتابیں منظوری کیلئے آسکیں 34 کتابوں کو منظوری مگر سوائے ایک کتاب کے اور وہ بھی ایم ایم نروانے کی کتاب ’’فور اسٹارس آف ڈیسٹینی‘‘ کو منظوری نہیں ملی۔ 2023ء میں یہ کتاب مرکزی وزارت دفاع کی کمیٹی کے پاس منظوری کیلئے آئی تھی۔ ابھی تک جواب نہیں ملا۔ تین سال کا عرصہ گذر گیا۔ کاروان میگزین کیلئے سشانت سنگھ نے رپورٹ لکھی۔ انہوں نے شائع کرنے سے پہلے وزارت دفاع، جنرل نروانے اور پینگوین سب کو اپنی رپورٹ کے بارے میں ای۔ میل کیا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ پارلیمنٹ میں راج ناتھ سنگھ اور امیت شاہ نے اس کتاب کے اقتباس کو مسترد کردیا لیکن سشانت سنگھ کا کہنا ہے کہ رپورٹ شائع ہوئے ایک ہفتہ سے زائد عرصہ گذر گیا، کسی بھی فریق نے ابھی تک یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کتاب کی مینو اسکرپٹ موجود ہی نہیں، نہ ہی جنرل نروانے یا وزارت دفاع نے کتاب کے دعوؤں کو خارج کیا ہے۔ آخر جنرل نروانے سشانت سنگھ کو جواب تو دے سکتے تھے۔ اس کتاب کو لے کر ابھی تک اس کے ناشر بھی چپ رہے مگر 10 فروری کو پینگوین رینڈم ہاؤز نے ایک بیان جاری کیا کہ جنرل نروانے کی کتاب کی اشاعت کے حقوق صرف ان ہی کے پاس ہے، اب تک اس کتاب کی نہ پرنٹ کاپی چھپی ہے، نہ ہی ڈیجیٹل پرنٹ آیا ہے اور نہ اس کی فروخت کا انتظام ؍ اعلان کیا گیا۔ اس کتاب کے کسی بھی حصہ کو کسی بھی شکل میں کسی بھی پلیٹ فارم پر اگر شائع کیا جارہا ہے تو وہ کاپی رائٹ اصول و قواعد کی خلاف ورزی ہوگی اور ناشر کے طور پر پینگوین رینڈم ہاؤز قانونی کارروائی کرسکتا ہے۔ اس کے ذریعہ ناشر نے اپنا موقف واضح کردیا ہے۔ ناشر یہ کہنے کی جرأت نہیں کرسکا کہ یہ کتاب وزارت دفاع کے معاملوں کی کمیٹی کے پاس 2023ء سے ہے۔ ہم 3 سال سے اجازت یا منظوری کا انتظار کررہے ہیں۔ اس لئے ابھی تک نہیں شائع ہوئی۔ یہ بات ناشر نے نہیں کہی۔ 31 جنوری کو کاروان میگزین نے جو کچھ کہا، اس پر سارے ملک میں بحث ہوئی تب ناشر نے کچھ نہیں کہا۔ 9 فروری کو خبر آتی ہے کہ جس طرح سے سوشیل میڈیا کے الگ الگ پلیٹ فارمس پر جنرل نروانے کی سوانح حیات کو باضابطہ شیئر کیا جارہا ہے، اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے ازخود یہ کارروائی کی ہے۔ آسام کے چیف منسٹر ہیمنتا بسوا سرما کا ایک ویڈیو آیا جس میں وہ بندوق سے مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ اسے لے کر تنازعہ پیدا ہوا تو آسام بی جے پی اس ویڈیو کو حذف کردیتی ہے لیکن سوشیل میڈیا پر وہ ویڈیو موجود ہے۔ کیا کسی کی پولیس نے ازخود نوٹس لے کر مقدمہ درج کیا کہ اس طرح کے ویڈیوز سے نفرت پھیلتی ہے لیکن ایک کتاب کو لے کر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہو پارہی ہے۔ اسے لے کر دہلی پولیس خود سے کیس درج کرتی ہے اور اس کے ایک دن بعد ناشر کا بیان آتا ہے۔ اس شام ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ چیانل پر کانگریس کی ترجمان بنسل کہتی ہیں کہ اس کتاب کو پینگوین رینڈم ہاؤز نے شائع کیا تھا مگر یہ ہندوستان میں دستیاب نہیں۔ 31 جنوری سے لے کر 9 فروری تک ہر دن اس کتاب کو لے کر لوک سبھا میں زوردار بحث ہوئی مگر ناشر نے کچھ نہیں کہا اور 10 فروری کو جب بیان آیا بھی تب بھی ناشر نے فوج کی کمیٹی کانام تک نہیں لیا۔
مودی ہندوستانی تاریخ کے بدترین وزیراعظم
اب چلتے ہیں ہند۔امریکہ تجارتی معاہدہ کی طرف جس کے بارے میں لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی تاریخ میں انہوں نے ایسی حکومت اور ایسا وزیراعظم نہیں دکھا۔ بجٹ پر راہول گاندھی کا خطاب کونسا لفظ پارلیمانی ہے اور کونسا لفظ پارلیمانی نہیں ہے؟ کس کا نام لے سکتے ہیں اور کس کا نام نہیں لے سکتے۔ حکمران جماعت کے وزراء اور ارکان پارلیمان کے ساتھ ساتھ اسپیکر کی طرف سے روکے جانے کے باوجود راہول گاندھی نے ایسپٹین فائل کا ذکر کردیا اور پارلیمنٹ کی خاموشی توڑ دی گئی، جسے کارروائی کا حصہ نہیں مانا گیا۔ ان سب کے درمیان پارلیمنٹ کے داؤ، پارلیمنٹ کی قلابازیاں کیا چیز ہوتی ہیں، وہ بھی راہول گاندھی کے خطاب میں دکھائی دی۔ ایک مقام پر جب راہول گاندھی بولنے لگے کہ امریکہ کے ساتھ معاملت ہوئی ہے، کیا اسے لے کر شرم نہیں آئی تو ایک دوسرے لفظ کو لیکر حکمران جماعت کی جانب سے اعتراض کیا گیا اسپیکر نے اسے کارروائی سے نکال دیا مگر انگریزی کے Shame اور Ashame کو پارلیمانی کارروائی کا حصہ مان لیا گیا۔ جیسے ہی اس کی اجازت ملی۔ راہول گاندھی نے اپنی بات کچھ یوں رکھی اور کہا کہ اگر وزیراعظم دباؤ میں نہیں ہوتے۔ اگر ٹرمپ نے گردن نہیں پکڑی ہوتی تو ہندوستان کا کوئی بھی وزیراعظم ایسی معاملت نہیں کرتا۔ راہول گاندھی نے یہ بھی بتایا کہ اگر اپوزیشن کو معاہدہ کرنے کا موقع ملتا تو کس طرح سے کرتا۔ راہول گاندھی نے پارلیمنٹ میں مودی کو یہ تک کہہ دیا کہ آپ نے ہندوستان کو بیچ دیا ہے۔ کیا آپ کو ہندوستان کو فروخت کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ آپ نے اپنی ماں (بھارت ماتا) کو فروخت کردیا، آپ کو شرم نہیں آتی۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ پر راہول گاندھی کے سوال بے حد ضروری ہے مگر ان کے پارلیمانی داؤد بھی کم اہم نہیں۔ اپنی بات ختم کرتے ہوئے راہول گاندھی ، ایسپٹین فائل پر آئے اس کا ذکر کرتے ہی ہنگامہ شروع ہوجاتا ہے۔ اسپیکر کی نشست پر بیٹھے جگدمبیکا پال نے اسے کارروائی کا حصہ ماننے سے انکار کردیا لیکن قلابازیوں کے درمیان کچھ کہنے سے اسے روکا جارہا ہے۔ بھلے ہی وہ پارلیمانی کارروائی کا حصہ نہیں بنا مگر وہاں موجود ارکان پارلیمان اور لائیو ٹی وی پر دیکھ رہے ملک کے عوام نے اسے جان ہی لیا۔ اس کے بارے میں دیکھ لیا۔ یہ بحث ہوتے ہوتے پارلیمانی اُمور کے وزیر نے کہہ دیا کہ راہول گاندھی جو بھی کہہ رہے ہیں، اسے حذف کرنا ہوگا۔ جب راہول گاندھی کو موقع مل گیا اور کہنے لگے کہ وہ ثابت کرنے کیلئے تیار ہے۔ اسپیکر کو لگا کہ معاملہ یہاں پھنس گیا ہے۔ وزیر پارلیمانی اُمور نے غلطی کردی۔ راہول صاف صاف کہنے لگے کہ اسپیکر کی طرف سے ثابت کرنے کیلئے آپ سے نہیں کہا گیا ہے۔ آپ اپنا خطاب جاری رکھیں۔ قائد اپوزیشن کی حیثیت سے راہول گاندھی بہتر انداز میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔