سابق وزیر ایم مکیش کا دیہانت، آج آخری رسومات

   

اہم قائدین کا خراج، سرکاری اعزاز دینے چیف منسٹر کی ہدایت
حیدرآباد۔29 ۔ جولائی (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد اور سابق وزیر ایم مکیش کا طویل علالت کے بعد آج دیہانت ہوگیا، ان کی عمر 60 سال تھی ۔ وہ کینسر کے عارضہ کا شکار تھے اور جوبلی ہلز کے خانگی ہاسپٹل میں ان کا علاج جاری تھا ۔ گزشتہ دو دنوں سے ان کی حالت نازک ہوگئی تھی اور آج دوپہر انہوں نے آخری سانس لی۔ مکیش نے 2018 ء اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر حلقہ اسمبلی گوشہ محل سے مقابلہ کیا تھا۔ انتخابات کے بعد ان کی حالت بگڑ گئی اور جب سے خانگی ہاسپٹل میں علاج جاری تھا۔ گریٹر حیدرآباد میں مکیش گوڑ کا شمار پارٹی کے اہم قائدین میں ہوتا رہا ۔ آنجہانی سدھیر کمار اور مکیش گوڑ کے علاوہ ڈی ناگیندر کو شہر کی سیاست میں گرفت حاصل تھی۔ یوتھ کانگریس سے انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور پہلی مرتبہ کارپوریٹر منتخب ہوئے۔ بعد میں رکن اسمبلی اور پھر متحدہ آندھراپردیش میں وزیر بنائے گئے۔ وہ مہاراج گنج اسمبلی حلقہ سے تین مرتبہ منتخب ہوئے۔ جولائی 1959 ء میں ان کی پیدائش ہوئی۔ انہیں دو فرزند وکرم گوڑ ، وشال گوڑ اور ایک دختر شلپا ہیں۔ وکرم گوڑ کانگریس پارٹی میں برقرار ہیں۔ 1986 ء میں مکیش گوڑ پہلی مرتبہ کارپوریٹر منتخب ہوئے۔ 1988 ء میں یوتھ کانگریس کے جنرل سکریٹری تھے۔ 1989 اور 2004 ء میں مہاراج گنج سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ 2009 ء میں گوشہ محل اسمبلی حلقہ سے کامیابی حاصل ہوئی ۔ 1994 ء ، 1999 ، 2014 اور 2018 ء میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 2007 ء میں وہ بہبودیٔ پسماندہ طبقات کے وزیر رہے جبکہ 2009 ء میں وزیر مارکیٹنگ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔ جوبلی ہلز میں واقع ان کی قیامگاہ کو نعش منتقل کی گئی۔ اپولو ہاسپٹل پہنچ کر کئی قائدین نے خراج عقیدت پیش کیا جن میں غلام نبی آزاد ، ملکارجن کھرگے ، اتم کمار ریڈی ، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور دیگر قائدین شامل ہیں۔ انہوں نے مکیش گوڑ کے پسماندگان کو پرسہ دیا۔ ان کی آخری رسومات 30 جولائی کو انجام دی جائیں گی۔ صبح ساڑھے دس بجے ان کی نعش کانگریس پارٹی آفس جامباغ میں حامیوں کے دیدار کیلئے رکھی جائے گی ۔ یہ مکیش گوڑ کی قدیم قیامگاہ ہے۔ وہاں سے ارتھی کا جلوس گوڑ شمشان واٹیکا پہنچے گا۔