سات سالہ مسلم لڑکے کے علاج کیلئے کویتا کی مساعی

,

   

ٹی آر ایس ایم ایل سی کی جانب سے انسانی ہمدردی کا غیر معمولی مظاہرہ
حیدرآباد۔ٹی آر ایس رکن کونسل کویتا نے ایک 7 سالہ لڑکے کے علاج کے سلسلہ میں تعاون کرکے لڑکے کے گھر والوں کا دل جیت لیا ہے۔ جولائی میں ٹوئیٹر پر مطیع الرحمن نامی سات سالہ لڑکے کے علاج کے سلسلہ میں تعاون کی خواہش کرتے ہوئے پوسٹ کیا گیا تھا۔ سات سالہ لڑکا دماغ سے متعلق سنگین عارضہ کا شکار تھا جسے طبی اصطلاح میں Posterior Carnial Fossa کہا جاتا ہے ۔ یہ لڑکا 15 دن سے زائد بے ہوشی کی حالت میں رہا۔ ٹوئیٹر پر لڑکے کی حالت کے بارے میں اطلاع ملتے ہی کویتا نے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ارکان خاندان سے ربط قائم کیا۔ رحمن کے والد علاج کیلئے ارکان خاندان کے ساتھ خلیج سے حیدرآباد واپس ہوئے۔ کویتا نے نظام انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس میں عہدیداروں سے بات کی اور چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے علاج کے اخراجات برداشت کرنے مکتوب حوالے کیا۔ کویتا کی مداخلت پر دواخانہ کی جانب سے ہاسپٹل کے اخراجات میں 50 فیصد کمی کردی گئی تھی تاہم چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے ان کی ادائیگی عمل میں آئی۔ نمس میں 4 مختلف سرجری کے بعد مطیع الرحمن بتدریج صحتیاب ہوئے اور معمول کے مطابق زندگی بسر کررہے ہیں۔ رحمن کی صحت کے بارے میں کویتا مسلسل ربط میں تھیں اور انہوں نے پدا پلی دورہ کے موقع پر رحمن کے گھر پہنچ کر افراد خاندان سے ملاقات کی۔ انہوں نے افراد خاندان کے ساتھ کچھ وقت گذارا اور عاجلانہ صحت یابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ کویتا نے کمسن لڑکے کی عاجلانہ صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے ٹوئیٹر پر پوسٹ کیا ہے۔ مطیع الرحمن کی صحت کے بارے میں ٹوئیٹر پوسٹ میں بتایا گیا تھا کہ لڑکے کے والد شیخ غوث پاشاہ دوبئی میں ٹیکنیشن کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور گذشتہ چھ ماہ سے تنخواہ نہیں ہے اور وہ اپنے بچہ کے علاج سے قاصر ہیں۔ کویتا کی انسانی ہمدردی پر ہر گوشہ سے ستائش کی جارہی ہے۔