لندن : برطانیہ کی ایک عدالت لندن میں قتل کی گئی 10 سالہ برٹش پاکستانی لڑکی سارہ شریف کے والد اور سوتیلی والدہ کی اپیلوں پر سماعت کررہی ہے۔ سارہ شریف کے والد اور ان کی سوتیلی والدہ کو گذشتہ برس دسمبر میں قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔مقدمہ کی سماعت کے بعد دسمبر میں سزا سناتے ہوئے جج جان کاوناگ نے کہا تھا کہ سارہ کو ’انتہائی ظالمانہ تشدد‘ کا نشانہ بنایا گیا۔عدالت نے 11 دسمبر کو سارہ شریف کے والد عرفان شریف اور سوتیلی والدہ بینش بتول کو ان کے قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔سارہ کے والد کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ ان کی کم از کم سزا 40 سال قید ہوگی۔ سارہ کی سوتیلی والدہ کو بھی عمر قید کی سزا دی گئی ہے تاہم عدالت نے کہا کہ سزا کی مدت کم از کم 33 سال ہوگی۔ عدالت نے سارہ کے چچا کو قتل کے جرم سے بری کر دیا تھا تاہم انہیں سارہ شریف کے قتل میں اعانت کے جرم میں 16 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔