فلوریڈا، 9 اکتوبر (یو این آئی) امریکہ کے شہر لاس اینجلس کے جنگلات میں رواں سال لگنے والی خوفناک آگ کے واقعہ کا ڈراپ سین ہوگیا، پولیس نے ملزم کو 9 ماہ بعد شواہد کے ساتھ گرفتار کرلیا۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے نو ماہ کی مسلسل تحقیقات کے بعد آخر کار اُس ملزم کو گرفتار کرلیا ہے جس پر الزام ہے کہ اُس نے یہ خوفناک آگ جان بوجھ کر لگائی تھی۔ لاس اینجلس کی تاریخ کی بدترین آگ پالی سیڈز فائر کے پیچھے چھپے راز سے بالآخر پردہ اٹھ گیا جس کے بعد سنسنی خیز حقائق سامنے آئے ۔ ملزم نے آگ لگانے کی واردات کا طریقہ چیٹ جی پی ٹی سے سیکھا اور اس پر عمل کیا۔ آگ لگنے کا یہ واقعہ یکم جنوری 2025 کو لاس اینجلس کے مضافاتی علاقے میں پیش آیا تھا، جس نے چند روز میں ہزاروں ایکڑ جنگلات اور بستیاں راکھ کر ڈالی تھیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آتشزدگی سے 12 افراد جل کر ہلاک جبکہ 7 ہزار سے زائد مکانات و عمارتیں تباہ ہوگئیں، نقصانات کا تخمینہ 150 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا۔ تحقیقات کے مطابق گرفتار 29 سالہ ملزم جوناتھن رِنڈرکنِک ہُٹ ایک اوبر ڈرائیور ہے ، جس نے سال نو کی رات ایک پہاڑی راستے کے قریب جھاڑیوں میں آگ لگائی۔