سیف آباد پر عوام کاشدید احتجاج ۔ خاطی کے خلاف کارروائی کرنے حکام کا تیقن
حیدرآباد ۔ 19 فبروری (سیاست نیوز) سیف آباد علاقہ میں کل رات دیر گئے کشیدگی پیدا ہوگئی جب ایک سب انسپکٹر نے مسلم خاتون پر لاٹھی سے حملہ کیا ۔ خانگی بس ڈرائیور اور ایک شہری کے جھگڑے میں سب انسپکٹر نے برقعہ پوش خاتون پر لاٹھی چلائی۔ اطلاع ملتے ہی برہم نوجوانوں کی کثیر تعداد سیف آباد پولیس اسٹیشن پر احتجاج کیا ۔ نوجوانوں کی کثیر تعداد کو دیکھتے ہوئے بھاری پولیس جمعیت کو طلب کرلیا گیا ۔مسلم خاتون پر حملہ کے خلاف ہجوم نے اعلیٰ عہدیداروں کے تیقن پر اپنا احتجاج ختم کیا۔ بتایا جاتا ہیکہ یاقوت پورہ کے ساکن رضوان کار میں خیرت آباد سے گذر رہے تھے۔ ان کی کار کے سامنے ایک خانگی بس تھی جو راستہ روک رہی تھی ۔ مسلسل کوشش کے بعد رضوان نے بس کو اوور ٹیک کرنے کے بعد کار روک دی۔ ذرائع کا کہنا ہیکہ بس ڈرائیور نے خود کار کو ایک کونے میں دبا د یا جس کے بعد ان میں بحث ہوئی کہ بس میں سوار دیگر افراد جو ڈرائیورس بتائے گئے نے جن میں ایک کی شناخت نریش کی حیثیت سے کی گئی رضوان کو شدید زدوکوب کیا۔ اپنے رشتہ دار کو مارپیٹ کا نشانہ ہوتا دیکھ کر کار سے مسلم لڑکی بھی اتر گئی۔ مسلم لڑکی کا بس میں سوار افراد کی جانب سے برقعہ کھینچنے کی حرکت کو دیکھ کر بھیڑ جمع ہوگئی اور پولیس وہاں پہنچی۔ حالات کا جائزہ لئے بغیر سب انسپکٹر سورج کمار لاٹھی سے خاتون پر حملہ کردیا۔ حملہ میں خاتون زخمی ہوگئی۔ اس کے بعد بھیڑ میں برہمی پیدا ہوگئی اور ایک ہجوم کی شکل میں سیف آباد پولیس اسٹیشن پہنچے۔ اطلاع کے فوری بعد اعلیٰ عہدیدار بھی سیف آباد پولیس اسٹیشن پہونچے ۔ انسپکٹر نامپلی خلیل پاشاہ نے ہجوم کو منتشر کردیا اور حالات کو قابو میں کرلیا۔ ایڈیشنل ڈی سی پی ویسٹ زون اقبال صدیقی نے نوجوانوں کو خاطی سب انسپکٹر کے خلاف کارروائی کا تیقن دیا۔ اقبال صدیقی نے بتایا کہ خیریت آباد میٹرو اسٹیشن کے قریب واقعہ میں سب انسپکٹر نے لاٹھی سے حالات کو قابو کرنے کی کوشش کی۔ اس نے خاتون پر بھی وار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سب انسپکٹر سورج کمار کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ کمشنر کو رپورٹ پیش کرکے سب انسپکٹر کو معطل کردیا جائیگا۔ انسپکٹر سیف آباد نے بتایا کہ خاتون کی شکایت حاصل کرلی گئی ہے اور بس میں سوار افراد کے حلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ع