سدی پیٹ میں خواتین گروپ کے ذریعہ دال کی فیاکٹری کا قیام

   

بینک سے قرض کی منظوری ، رکن اسمبلی کا بھر پور تعاون ، بازار میں رعایتی قیمت پر دال کی فروختگی
حیدرآباد۔ریاست تلنگانہ کے ضلع سدی پیٹ میں خواتین نے سخت محنتی و مشقت کے بعد دال کی فیکٹری شروع کردی ہے اور 18 خواتین پر مشتمل گروپ نے مسور کی دال کی فیکٹری کے آغاز کے لئے فی کس 10 ہزار روپئے سے ایک لاکھ 80ہزار روپئے جمع کئے اور مٹ پلی موضع کی سرپنچ نے انہیں ایک لاکھ روپئے فراہم کئے جس کے ساتھ خواتین نے دال کی خریدی کا عمل شروع کیا اور ان کی اس کوشش اور جستجو کو دیکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے 10 لاکھ روپئے کا قرض جاری کیا جس سے ان خواتین نے دال کی صفائی اور علحدگی کی مشین حاصل کرلی اور اب یہ خواتین دال کی فیکٹری چلا رہی ہیں۔ ان خواتین کی منصوبہ بندی اور حکمت عملی کو دیکھتے ہوئے ریاستی وزیر فینانس مسٹر ٹی ہریش راؤ نے ان کی مدد کا فیصلہ کیا اور انہیں اقل ترین قیمتو ںمیں دال کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جس کے نتیجہ میں انہیں اب اقل ترین قیمت میں دال حاصل ہونے کے علاوہ مارکٹ میں دکان بھی الاٹ کردی گئی ہے تاکہ وہ اپنی دال کو چلر فروشی کی دکان پر بھی فروخت کرسکیں۔ابتداء میں ان خواتین کو پڑوسی مواضعات سے 5800روپئے فی کنٹل دال حاصل ہورہی تھی لیکن وزیر فینانس کی مداخلت کے بعد انہیں اب 4200 روپئے فی کنٹل سے 250 کنٹل دال حکومت کی جانب سے فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ خواتین کے اس گروپ نے ایک فیکٹری کی شکل دیدی ہے جس کے بعد ضلع سدی پیٹ میں ان خواتین کی خوب سراہنا کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ان کو دیکھتے ہوئے ضلع کی دیگر خواتین نے بھی خودمکتفی بننے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ اس دال کی فیکٹری سے نکلنے والی دال بازار میں 500روپئے میں 6کیلو فروخت کی جانے لگی ہے جبکہ چلر فروشی کی دکانات پر مسور کی دال کی قیمت 90 روپئے فی کیلو ہے اور یہ خواتین 80روپئے فی کیلو دال فروخت کر رہے ہیں۔ان خواتین کا کہناہے کہ ان کی جانب سے شروع کئے گئے اس کام کو حکومت کی مدد اور رعایتی قیمت میں 250کنٹل دال حاصل ہونے کے سبب وہ کم قیمت میں دال کی فروخت کے متحمل ہیں اور اسیٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے منظورہ قرض کے سبب ان کے پاس دال کی صفائی و علحدگی کی مشین موجود ہے جس کی وجہ سے ان کا کام بہت آسان ہوگیا ہے۔