سر اکبر حیدری کے ساتھ گاندھی جی کا دوستانہ

   

دونوں کے درمیان خط و کتابت
نظام سرکار میں صدر اعظم ( وزیراعظم ) کے عہدے پر براجمان ہونے والے سر اکبر حیدری کے مہاتما گاندھی کے ساتھ دوستانہ و خوشگوار تعلقات کی بڑی خصوصیت ہے ، جس کا واضح ثبوت ان دونوں کے درمیان ہوئی خط و کتابت ہی ہے اور اتنا ہی نہیں اکبر حیدری و گاندھی جی دونوں نے مل کر ملکی سطح پر مذہبی ہم آہنگی ، روا داری اور قیام امن کے لیے
مختلف حکمت عملی بھی تیار کئے تھے ۔ مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ سر اکبر حیدری اچانک اس دارفانی سے کوچ کر گئے اور آپ کے انتقال پر گاندھی جی نے ’ روزنامہ ہریجن ‘ میں سر اکبر حیدری کے تعلق سے تعزیتی قلم چلاتے ہوئے لکھا کہ میں اپنے ایک انتہائی قریبی گلے لگانے والے دوست سے محروم ہوگیا ہوں۔۔

نظام سرکار میں اولین وزیر خزانہ کی حیثیت سے عہدہ سنبھالنے والے سر اکبر حیدری بہت ہی کم مدت میں وزیر تعلیم اور صدر اعظم ( وزیر اعظم ) جیسے عظیم عہدوں پر بھی خدمات انجام دینے اور جامعہ عثمانیہ ( عثمانیہ یونیورسٹی ) کے قیام میں جدوجہد کرنے والوں میں سر اکبر حیدری سرفہرست تھے اور وہ ایک سیکولر چہرے کی پہچان رکھتے تھے ۔ برٹش حکومت نے 7 ستمبر 1931 ء کو لندن میں بعنوان ’ بھارت میں بہترین انتظامیہ ‘ کے ایک سمینار منعقد ہوا تھا جس میں کل جماعتی وفود شامل ہوئے تھے اور سراکبر حیدری نے نظام سرکار کے نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی تھی اور اس کانفرنس میں گاندھی جی بھی شریک تھے جہاں دونوں کا آپس میں تعارف ہوا اور واپسی کے سفر میں دونوں قائدین ایک پانی کے جہاز سے سفر کرنے کی وجہ سے دونوں کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم ہوگئے تھے اور اس کے بعد سے دونوں کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ جاری تھا ۔۔
پرسہ ( تسلی ) دیتے ہوئے مراسلہ
سر اکبر حیدری کی شریک حیات آمنہ طیبہ ناسازی طبیعت کی بناء فریش ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے گاندھی جی نے کئی مرتبہ آپ کی مزاج پرسی کرتے ہوئے خطوط لکھے تھے اور اس بات کے ثبوت تاریخی اوراق میں دستیاب ہیں اور گاندھی جی کے اس خط کے جواب میں سر اکبر حیدری نے مراسلہ لکھا کہ میری شریک حیات کی طبیعت میں تھوڑا سا افاقہ ہوا ہے اور اس خط و کتابت کا تذکرہ تلگو زبان کی تاریخی کتاب ’ تلگو ناٹا مھاتموڈی یاترا ‘ میں تذکرہ کیا گیا ہے ۔ نظام سرکار کی جانب سے نظام اسٹیٹ کانگریس پر امتناع عائد کئے گئے وقت دونوں قائدین کے درمیان اختلاف رائے ہونے کا بھی بعض مراسلوں سے پتہ چلتا ہے البتہ دونوں کے درمیان غلط فہمیاں طویل عرصے تک جاری نہ رہیں ۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ 2 اکٹوبر 1939 کو عابڈس میں واقع ریڈی ہاسٹل میں گاندھی جی یوم پیدائش پروگرام منعقد کیا گیا تھا اور اس پروگرام میں سر اکبر حیدری نے شرکت کرتے ہوئے ہریجن سیوا سنگھم کو 500 سو روپیوں کا عطیہ بھی دیا تھا اور آپ کا یہ عمل گاندھی جی کے ساتھ دوستی کا ثبوت ہے ۔
سر اکبر حیدری کو گاندھی جی کا خراج عقیدت
سر اکبر حیدری کی اچانک وفات کی اطلاع ملنے پر گاندھی جی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ میں نے ایک بہترین قابل دوست کو کھو دیا ہے ‘ ۔ اور اتنا ہی نہیں گاندھی جی نے بذات خود سر اکبر حیدری کی وفات پر قلمی خراج عقیدت بھی ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ان میں بے شمار فضائل موجود تھے اور اس طرح ایک ہی شخص میں کئی فضائل کا پایا جانا شاذ و نادر ہی ہے ۔ وہ ایک بہترین اسکالر ، فلسفی ، اصلاح پسند عقیدت مند ، اصول پسند اور وہ تمام مذاہب کا علم رکھنے والے تھے جن کے تعلقات تمام مذاہب والوں کے ساتھ تھے اور ہم دونوں دوسری گول میز کانفرنس منعقدہ لندن کے اختتام کے بعد ایک پانی کے جہاز سے سفر کیا تھا اور میں روزانہ شام میں جو عبادت کیا کرتا تھا وہ برابر شریک ہوا کرتے تھے ۔ علاوہ ازیں گیتا کے اشلوک اور ہمارے بھجن کو سمجھنے کی بھی کوشش کیا کرتے تھے یہاں تک کہ اکبر حیدری ان تمام کا مہادیو دیتائی کے ذریعہ ترجمہ بھی کروایا کرتے تھے ۔ مگر خدا کی مرضی کچھ اور ہی تھی اور مجھے سیول نافرمانی سنگرام میں بے حد مصروف ہونا پڑا تھا ، پڈوچیری کے مہارشی تین ماہ میں ایک مرتبہ اپنے شرد قالووں کو اپنے درشن کا موقع دیا کرتے تھے اور اکبر حیدری اس دن بلا ناغہ حاضر ہوا کرتے تھے ۔ سر اکبر حیدری کی وفات سارے ملک کے لیے ایک عظیم و ناقابل تلافی نقصان ہے اور آپ کی موت سے مجھے بے حد تکلیف ہوئی ہے اور میں آپ کے افراد خاندان سے دلی طور پر اظہار تعزیت کرتا ہوں ۔ مذکورہ خراج عقیدت پر مشتمل مضمون گاندھی جی نے 14 جنوری 1942 ء کے روزنامہ ہریجن اخبار میں بذات خود لکھا تھا ۔۔