سراج کو حیدرآباد کا کپتان بنانے کے بعد نئی بحث شروع

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد 15 جنوری (ایجنسیز) حیدرآباد کرکٹ کے سینئر سلیکٹرز نے رانجی ٹرافی کے آئندہ دو اہم مقابلوں کے لیے ہندوستانی فاسٹ بولر محمد سراج کوکپتان مقررکیا ہے، جسے کرکٹ حلقوں میں ایک غیر متوقع اور چونکا دینے والا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حیدرآباد 22 تا 25 جنوری مضبوط حریف ممبئی اور 29 جنوری تا یکم فروری چھتیس گڑھ کے خلاف اپنے میچز حیدرآباد میں کھیلے گا۔ گروپ ڈی میں حیدرآباد اس وقت 13 نشانات کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے، جبکہ ممبئی 24 نشانات کے ساتھ ٹیموں کے جدول پر سرفہرست ہے۔ حیدرآبادکی کارکردگی اب تک ملی جلی رہی ہے، جہاں ٹیم نے ایک میچ جیتا، ایک میں شکست کھائی جبکہ تین مقابلے ڈرا پر ختم ہوئے۔ محمد سراج اپنی جارحانہ بولنگ، فٹنس اور فائٹر اسپرٹ کے لیے جانے جاتے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس سے قبل کبھی حیدرآباد کی کسی ٹیم کی قیادت نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں کپتان بنائے جانے کے فیصلے نے سب کو حیران کردیا ہے۔ کھیل کھلاڑی ویب سائٹ کے بموجب کرکٹ ماہرین نے کہا ہے کہ بہترین کھلاڑی ہونا اورکامیاب کپتان ہونا دو الگ چیزیں ہیں اور تاریخ میں کئی عظیم کھلاڑی قیادت میں وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے جو بطورکھلاڑی ان کا خاصہ رہی، جن میں سچن ٹنڈولکر اور برائن لارا کی مثال دی جاتی ہے۔ سراج کوکپتان بنائے جانے کا فیصلہ اس لیے بھی سوالات کو جنم دے رہا ہے کہ ٹیم میں دو تجربہ کار کھلاڑی جی راہول سنگھ اور سی وی ملند موجود ہیں۔ سیزن کے آغاز میں سلیکٹرز نے ہندوستانی ٹیم کیکھلاڑی تلک ورما کوکپتان اور راہول کو نائب کپتان مقررکیا تھا، اس اتفاقِ رائے کے ساتھ کہ تلک کی غیر موجودگی میں راہول ٹیم کی قیادت کریں گے۔ راہول نے چار رانجی میچوں میں ٹیم کی قیادت کی اور ان کی کپتانی پر سلیکٹرز کی جانب سے کسی قسم کی ناراضی کا اظہار بھی نہیں کیا گیا، تاہم اب انہیں دوبارہ نائب کپتان بنا دیا گیا ہے، جسے بعض حلقے ناانصافی قرار دے رہے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں جب راہول نے سید مشتاق علی ٹرافی سے خود کو الگ کیا تو سی وی ملند کوکپتان بنایا گیا، جن کی قیادت میں حیدرآباد نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹورنمنٹ میں اپنا نام کیا تاہم ملند کے زخمی ہونے کے بعد وجے ہزارے ٹرافی کے دوران ٹیم کی قیادت کے معاملات کو مزید الجھا دیا، جہاں مختلف میچوں میں تین الگ الگ کھلاڑی کپتانی کرتے نظر آئے اور حیدرآباد کو سات میں سے پانچ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین پی ہری موہن نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹرز ٹیم میں نئی سوچ اور تازہ جوش و جذبہ لانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق سراج قیادت کے لیے پْرجوش ہیں اور بڑے مقابلوں میں نئی حکمتِ عملی کے ساتھ ٹیم کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ ہری موہن نے یہ بھی واضح کیا کہ راہول کی قیادت پرکسی قسم کی شکایت نہیں، بلکہ سیزن کے دوران کپتانی میں تبدیلیاں زیادہ ترکھلاڑیوں کی عدم دستیابی اور زخمی ہونیکی وجہ سے ہوئیں۔