حیدرآباد: حکومت کی جانب سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن ضلع رنگا ریڈی کے سرور نگر منڈل میں ایک سرکاری ادارہ نے وقف اراضی پر قبضہ کرتے ہوئے غیر مجاز تعمیرات کا آغاز کردیا ہے۔ قطب شاہی مسجد منصور آباد کے تحت سروے نمبر 6 اور 7 میں 51.17 ایکر اراضی موجود ہے۔ وقف بورڈ کے پاس تمام ریکارڈ اور گزٹ کی موجودگی کے باوجود تلنگانہ اسٹیٹ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن میں وقف اراضی کو خانگی اداروں کے حوالہ کرتے ہوئے تعمیری کام کا آغاز کیا ہے۔ پولیس کی نگرانی میں تعمیری سرگرمیاں جاری ہیں اور وقف بورڈ کی نمائندگی اور مداخلت کو نظر انداز کردیا گیا۔ اراضی کے تحفظ کیلئے مقامی افراد نے وقف بورڈ پر دھرنا منظم کیا تھا جس کے بعد صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے عہدیداروں کی ٹیم روانہ کی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وقف بورڈ کی مداخلت اور نمائندگی کا کوئی اثر نہیں ہوا اور تعمیری کاموں میں تیزی پیدا کردی گئی ہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے پولیس میں تاحال کوئی شکایت درج نہیں ہوئی ہے۔ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن اور متعلقہ ایم آر او نے محکمہ جنگلات کے ساتھ جوائنٹ سروے کرتے ہوئے مسجد قطب شاہی کی حدبندی کی تھی۔ مقامی افراد نے بتایا کہ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود تعمیری سرگرمیاں جاری ہے ۔ ہائی کورٹ میں ایک اور مقدمہ زیر دوران ہے۔ انہوں نے صدرنشین وقف بورڈ اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر سے اپیل کی کہ فوری مداخلت کرتے ہوئے تعمیری کام روکنے کی ہدایت دیں تاکہ قیمتی اوقافی اراضی کا تحفظ ہوسکے۔